اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

ڈیرہ اسماعیل خان, تعلیمی اداروں میں عملے کی عارضی ایڈجسٹمنٹ منسوخ

ڈیرہ اسماعیل خان (نمایندہ اردہ تعلیم ڈاٹ کام) تعلیمی...

ملک کی 33فیصدآبادی دماغی امراض میں مبتلا ہے ۔ڈاکٹر اخونزادہ واجد

پشاور (جنرل رپورٹر) پشاور کی گندھارا یونیورسٹی میں ذہنی صحت کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا گیا، جس میں ماہرین صحت اور طلباء نے دماغی صحت کی اہمیت اور ملک میں بڑھتے ہوئے نفسیاتی مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالی

اس موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستان سائیکاٹری سوسائٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اخونزادہ واجد علی تھے۔ تقریب میں شرکاء کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، جن میں ڈاکٹر رابعہ، ڈاکٹر انجم، بریگیڈیئر ڈاکٹر احمد حسین، گندھارا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اعجاز حسن خان، ڈاکٹر افتخار علی ملک، ڈاکٹر سید منظور، ڈاکٹر عذرا، نور الباقی، ڈاکٹر اکرام، ڈاکٹر عبید، اور ڈاکٹر آصف سمیت میڈیکل کالج کے طلباء بھی شامل تھے[

پشاور, پروفیسر ڈاکٹر طاہر عثمان ویٹرنری کالج کے پرنسپل تعینات

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ڈاکٹر واجد اخونزادہ نے ملک میں دماغی بیماریوں کی بڑھتی ہوئی شرح پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دماغی بیماری کی اہمیت کو سمجھنا اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، کیونکہ پاکستانی آبادی کا 33 فیصد حصہ کسی نہ کسی شکل میں ان مسائل سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں معاشرے میں آگاہی پھیلانا ناگزیر ہو گیا ہے

اورکزئی، اغوا ہونے والا سکول پرنسپل 16 روز بعد بازیاب

ڈاکٹر اخونزادہ نے واضح کیا کہ دماغی امراض کو بھی دیگر جسمانی بیماریوں جیسے ملیریا اور ڈینگی کی طرح سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور ان کا مناسب علاج نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان امراض کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو نہ صرف مریض کی تکلیف بڑھتی ہے، بلکہ اس کی کام کرنے کی صلاحیتیں اور زندگی کا معیار بھی نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے

تقریب کا بنیادی مقصد طلباء اور عام لوگوں کو ذہنی صحت کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کرنا، نفسیاتی مسائل سے جڑے منفی تصورات کو ختم کرنا، اور مریضوں کے لیے بروقت اور مناسب علاج کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ذہنی صحت کے فروغ اور آگاہی کے لیے مل کر کام کرنے کے عہد کی تجدید کی