Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeایکسکلوسیو نیوزمیٹرک امتحانات، پیپر آؤٹ تحقیقات مکمل، سخت کاروائی کی سفارش

میٹرک امتحانات، پیپر آؤٹ تحقیقات مکمل، سخت کاروائی کی سفارش

میٹرک امتحانات؛ پیپر آؤٹ تحقیقات مکمل، ملوث عناصر کی نشاندہی کے بعد مزید سخت کاروائی کی سفارش

* تحقیقات کے دوران متعدد افراد کے بیانات قلمبند؛ 2 نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن منسوخ، 32 سے زائد اساتذہ معطل اور بلیک لسٹ

* تفتیشی ٹیموں نے پشاور سمیت مختلف تعلیمی بورڈز کے امتحانات کا جائزہ لیا، سرکاری ملازمین اور اساتذہ سے بھی پوچھ گچھ

* آئندہ امتحانات کے دوران نگرانی کے موثر نظام اور خفیہ مواد کی ترسیل کا طریقہ کار مزید سخت بنانے پر زور

پشاور (نامہ نگار)

پشاور تعلیمی بورڈ سمیت صوبے کے مختلف تعلیمی بورڈز کے تحت منعقدہ میٹرک امتحانات میں پرچوں کے مبینہ طور پر آؤٹ (لیک) ہونے کے واقعات کی اعلیٰ سطح پر جاری تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، تحقیقاتی عمل کے دوران واقعے میں ملوث متعدد عناصر کی کامیابی سے نشاندہی کر لی گئی ہے جبکہ ذمہ داران کے بیانات بھی باقاعدہ قلمبند کر لیے گئے ہیں۔

تعلیمی بورڈز کا جائزہ اور پوچھ گچھ کا عمل

ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹرک پیپر لیک ہونے کے معاملات کی شفاف اور جامع تحقیقات کے لیے مختلف خصوصی تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ ان ٹیموں نے پشاور سمیت صوبے کے دیگر مختلف تعلیمی بورڈز میں ہونے والے امتحانات کے پورے نظام کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ تفتیش کے دوران نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ، سرکاری ملازمین، تعلیمی بورڈز کے عملے اور سرکاری اسکولوں کے بعض اساتذہ کو بھی شاملِ تفتیش کر کے ان سے سخت پوچھ گچھ کی گئی۔

نجی اداروں کی منسوخی اور اساتذہ کو بلیک لسٹ کرنے کا ایکشن

تحقیقات کے ابتدائی مرحلے میں ہی سنگین بے ضابطگیاں اور شواہد سامنے آنے پر بڑی کاروائی عمل میں لائی گئی ہے، جس کے تحت اب تک دو نجی تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کی جا چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امتحانی عمل کو داغدار کرنے اور غفلت برتنے پر 32 سے زائد اساتذہ کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ان ملوث اساتذہ کو مستقبل کے لیے بلیک لسٹ بھی کر دیا گیا ہے۔

امتحانی نظام کو محفوظ بنانے کے لیے اہم سفارشات

ذرائع کے مطابق، تفتیشی ٹیموں کی جانب سے مرتب کردہ فائنل تحقیقاتی رپورٹ میں امتحانی نظام کو مزید محفوظ اور شفاف بنانے کے لیے متعدد اہم اور کلیدی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں خصوصی طور پر زور دیا گیا ہے کہ آئندہ امتحانات کے دوران نگرانی کے نظام کو انتہائی موثر بنایا جائے، جبکہ امتحانی پرچوں اور دیگر خفیہ مواد کی ترسیل (ٹرانسپورٹیشن) کے طریقہ کار کو مزید سخت اور فول پروف کیا جائے تاکہ کسی بھی سطح پر مداخلت کا امکان باقی نہ رہے۔

مزید برآں، رپورٹ میں پیپر لیک کرنے والے دیگر ذمہ داروں کے خلاف بھی بلا امتیاز سخت قانونی کاروائی کو یقینی بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ دوسری جانب، ذرائع کا کہنا ہے کہ تعلیمی بورڈز نے ان سفارشات کی روشنی میں آئندہ سال کے امتحانات کے لیے نئے اور انتہائی سخت انتظامی اقدامات متعارف کرانے پر غور شروع کر دیا ہے، تاکہ مستقبل میں پرچوں کے افشاء ہونے جیسے مخدوش واقعات کی روک تھام کو ہر صورت ممکن بنایا جا سکے۔