سندھ حکومت کا نقل مافیا کے خلاف بڑا ایکشن: نقل کرنے والے طلبہ پر تاحیات پابندی، ملوث عملہ نوکری سے فارغ
کراچی (نیوز رپورٹر) حکومتِ سندھ نے صوبے بھر میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے دوران نقل کے رجحان کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے سخت ترین تادیبی کارروائیوں کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر جامعات اسماعیل راہو اور وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ نے ایک مشترکہ اعلامیے میں “زیرو ٹالرنس پالیسی” نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت نقل میں ملوث پائے جانے والے طلبہ اور امتحانی عملے کو عبرتناک سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
نقل پر تاحیات پابندی: نئے ضوابط کے مطابق، اگر کوئی طالب علم نقل کرتے ہوئے، موبائل فون یا دیگر ممنوعہ مواد کے ساتھ پکڑا گیا، تو اسے فوری طور پر امتحانی عمل سے خارج کر دیا جائے گا۔ ایسے طالب علم کے تمام پرچے منسوخ کر دیے جائیں گے اور اسے تاحیات بورڈ کے کسی بھی امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
عملے کی برطرفی: امتحانی شفافیت پر سمجھوتہ کرنے والے عملے کے خلاف بھی سخت ایکشن لیا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق، اگر کوئی انویجیلیٹر، انٹرنل، ایکسٹرنل یا انتظامی افسر نقل میں سہولت کاری کرتا پایا گیا، تو اسے فوری طور پر ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔
صوبائی وزراء کا کہنا ہے کہ امتحانی مراکز پر نگرانی کا نظام مزید سخت کیا جا رہا ہے اور کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس فیصلے کا مقصد سندھ کے تعلیمی اسناد کی ساکھ کو بحال کرنا اور حقدار طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

