لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ایکسپو سینٹر میں منعقدہ "ینگ انٹرپریونر فیسٹ” کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف سٹالز کا معائنہ کیا، نوجوانوں کے تیار کردہ بزنس آئیڈیاز دیکھے اور ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر انہوں نے اینیبلرز کے تحت ہونے والے پروگرام میں کامیاب انٹرپریونرز میں ایوارڈز بھی تقسیم کیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے اس بات پر زور دیا کہ ینگ انٹرپریونر فیسٹ جیسے پروگرامز نوجوانوں کو نئے اور جدید آئیڈیاز تخلیق کرنے میں بے حد معاون ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی یوتھ میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے اور یہاں کے نوجوان حیران کن کام کر رہے ہیں۔ اس طرح کی سرگرمیاں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے بہترین مواقع فراہم کرتی ہیں، اور پاکستان کے نوجوان انٹرپریونرشپ کے ذریعے ایک مضبوط اور روشن کل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
رانا سکندر حیات نے کہا کہ پاکستان تیزی سے ٹیکنالوجی کے انقلاب کی جانب گامزن ہے اور آج ہمارے تعلیمی اداروں میں بچے روبوٹکس پر عبور حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیمی اداروں میں ہونے والے سٹیم مقابلوں میں طلباء بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، اور اس سال ان مقابلوں میں 10 لاکھ طلباء حصہ لے رہے ہیں۔

حکومتی تعلیمی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے بتایا کہ گریڈ نائن میں سائنس کے ساتھ ساتھ اب ٹیک ایجوکیشن بھی پڑھائی جا رہی ہے، اور گزشتہ سال گریڈ 9 کے 52 ہزار طلبہ نے ٹیک ایجوکیشن کے ساتھ امتحان دیا تھا۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ نئے تعلیمی سال سے گریڈ ون سے ہی سلیبس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کو شامل کیا جا رہا ہے، جبکہ تمام جامعات میں گریجویشن کی ڈگری کے لیے اے آئی کورس کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
پبلک سیکٹر میں تعلیمی سہولیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں طلباء کو ٹیکنالوجی گیجٹس دیے جا رہے ہیں اور گزشتہ دو سالوں میں جامعات کے 1 لاکھ 10 ہزار نوجوانوں کو جدید لیپ ٹاپ اور سکالرشپس دی گئی ہیں

جبکہ مزید بھی دیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایک لاکھ طلباء اور اساتذہ کو مفت گوگل کورسز کروائے گئے ہیں۔ اسکولوں کو اپ گریڈ کرنے کے منصوبے کے تحت رواں سال 5 ہزار اسکولوں میں سٹیم اور روبوٹکس لیبز کا کام مکمل ہو جائے گا۔
وزیر تعلیم نے مزید بتایا کہ ڈگری ہولڈر نوجوانوں کو پبلک اسکولز چلانے کے مواقع فراہم کرنے کے اقدام سے 40 ہزار انٹرپریونرز کو روزگار کے مواقع ملے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے نوجوانوں سے گفتگو کی اور ان کے عزم کو سراہا۔