اسرائیل کو تسلیم کرنا تو دور کی بات، اس کی حمایت کا سوچنا بھی آئینِ پاکستان کی توہین ہے؛ وائس چانسلر کی فوری برطرفی اور غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) جمیعت علمائے پاکستان سندھ کے صدر سید عقیل انجم قادری، نائب صدر حافظ محمد سموں، ناظمِ اعلیٰ علامہ اسلم حسینی، سیکریٹری اطلاعات عبدالرؤف الوانی اور مفتی ہاشم سکندری نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں چکوال یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے پر وفاقی حکومت سے فوری اور سخت ترین تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ گزشتہ دنوں چکوال یونیورسٹی میں غاصب و دہشت گرد ریاست اسرائیل کا پرچم لہرانے پر یونیورسٹی وائس چانسلر اور دیگر ذمہ داروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ وطنِ عزیز پاکستان میں ایسا ناپاک کام کرنے والے آئینِ پاکستان کی شدید خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں، یہ اقدام بانیِ پاکستان اور نظریہ پاکستان سے کھلی غداری ہے۔
بانیِ پاکستان نے اسرائیل کو غاصب وجود قرار دیا تھا
جے یو پی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اسرائیل کو ناائز اور فلسطین کا غاصب وجود قرار دیا تھا، اور اسرائیل لاکھوں معصوم فلسطینیوں کا قاتل ہے۔ نظریہ پاکستان کے مخالفین اسرائیل کے وجود کو پاکستانی عوام کے لیے قابلِ قبول بنانے کی ناپاک اور مذموم کوششیں کرتے رہتے ہیں جنہیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ
رہنماؤں نے مزید کہا کہ وطنِ عزیز پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے، یہاں اس قسم کی اسرائیل نواز سرگرمیوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور مقتدر حلقوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ چکوال یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور اس واقعے میں ملوث دیگر تمام ذمہ داروں کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے برطرف کیا جائے اور ان پر نظریہ پاکستان سے غداری کا باقاعدہ مقدمہ درج کر کے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔

