جدید تدریسی نظام، تربیت یافتہ اساتذہ اور عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی جائیں گی، وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی
منصوبہ بندی کا آغاز: تمام اضلاع میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے اسکولز بنیں گے، 9.5 ارب روپے لاگت کا تخمینہ
پشاور (بیوروچیف )وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت چیف منسٹر ماڈل اسکولز کے قیام سے متعلق ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کے مجوزہ خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے چیف منسٹر ماڈل اسکولز کے فوری اور قانونی قیام کے لیے جامع فریم ورک تیار کرنے کا عمل ہنگامی بنیادوں پر شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
تعلیمی ایجنڈے میں سنگ میل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ چیف منسٹر ماڈل اسکولز کا قیام ہماری حکومت کے تعلیمی اصلاحاتی ایجنڈے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ معیاری تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا بنیادی حق ہے، اور ان اسکولوں میں جدید تدریسی نظام متعارف کرایا جائے گا۔ ان ماڈل اسکولوں میں نہ صرف اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ تعینات کیے جائیں گے بلکہ طلبہ کو عالمی معیار کی جدید تعلیمی سہولیات بھی میسر ہوں گی۔
صوبے کے تمام اضلاع میں نیٹ ورک کا پھیلاؤ
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ تعلیمی نیٹ ورک کو وسیع کرتے ہوئے اگلے مالی سال کے دوران صوبے کے تمام اضلاع کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تح
- صوبے بھر کے تمام اضلاع میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے مجموعی طور پر 72 چیف منسٹر ماڈل اسکولز قائم کیے جائیں گے۔
- اس انقلابی منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 9.5 ارب روپے کی خطیر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
انتظامی اور قانونی ڈھانچہ
ماڈل اسکولوں کو احسن طریقے سے چلانے کے لیے انتظامی اور قانونی قواعد و ضوابط پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں مطلع کیا گیا کہ چیف منسٹر ماڈل اسکولز کے لیے ایک علیحدہ قانون اور قواعد و ضوابط کا ڈھانچہ مرتب کیا جائے گا، جبکہ ان اسکولوں کے روزمرہ اور انتظامی امور کو خود مختار اور شفاف طریقے سے چلانے کے لیے ایک سینٹرلائزڈ بورڈ آف گورنرز (BoG) قائم کیا جائے گا۔

