ڈاؤ یونیورسٹی کراچی، تقرریوں کی لازمی اہلیت کی شرائط پر عملدرآمد نہ ہونے کا انکشاف

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں تدریسی تقرریوں کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے مقررہ معیار پر مکمل عمل نہ ہونے کا الزام سامنے آیا ہے۔ ایچ

ای سی کے نامزد کردہ سندیکیٹ رکن اور ریجنل ڈائریکٹر سندھ ایچ ای سی سلیمان احمد نے وائس چانسلر کو خط لکھ

کر اس معاملے پر باضابطہ اعتراض ریکارڈ کرایا اور یونیورسٹی میں جاری اور حالیہ تقرریوں کا متعلقہ معیار کے

مطابق جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ جب کہ وائس چانسلر ڈاکٹر نازلی حسین نے تقرریوں کو قواعد کے مطابق قرار

دیتے ہوئے کہا کہ تمام تقرریاں پی ایم ڈی سی، اور ایچ ای سی کے قواعد کو مد نظر رکھتے ہوئے سلیکشن بورڈ کے

زریعے اور سنڈیکیٹ کے اراکین کی اکثریت سے منظوری کے بعد کی گئی ہیں۔ وائس چانسلر کو لکھے گئے خط میں

سلیمان احمد نے کہا ہے کہ تدریسی تقرریوں کے بعض معاملات میں ایچ ای سی اور، جہاں لاگو ہو، پی ایم ڈی سی

کی لازمی اہلیت کی شرائط پر مکمل عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ ان کے مطابق وہ سندیکیٹ کے رکن کی حیثیت

سندھ حکومت کی ٹیچر لائسنسنگ پالیسی کی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی

سے یہ معاملہ ایک سے زائد مرتبہ اٹھا چکے ہیں اور اس بات پر زور دیا ہے کہ کسی امیدوار کی تقرری یا منظوری اس

وقت تک نہ دی جائے جب تک وہ متعلقہ قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضے پورے نہ کرے۔خط میں کہا گیا ہے کہ بار بار

توجہ دلانے کے باوجود تسلی بخش اصلاحی اقدامات نہیں کیے گئے اور ایسے معاملات پر کارروائی جاری ہے جن میں

مقررہ معیار پر مکمل عمل کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ خط کے مطابق معیار کے برخلاف تقرریوں سے یونیورسٹی کو

ضابطہ جاتی، ایکری ڈیٹیشن، قانونی اور آڈٹ سے متعلق مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ اس سے تعلیمی معیار

اور ادارے کی ساکھ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سندیکیٹ رکن نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام جاری اور حالیہ تدریسی

تقرریوں کا ایچ ای سی اور پی ایم ڈی سی کے قابلِ اطلاق معیار کی روشنی میں جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا

ہے کہ جہاں مطلوبہ تعلیمی قابلیت، تجربہ، تحقیقی اشاعتیں، پیشہ ورانہ رجسٹریشن یا دیگر لازمی شرائط پوری نہ

ہوں، وہاں تقرری، ترقی یا مستقلی کا عمل آگے نہ بڑھایا جائے۔ خط میں مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ ہر آسامی کے لیے

معیار پر عمل درآمد کی الگ تفصیل تیار کی جائے، اس کے ساتھ متعلقہ دستاویزی ثبوت منسلک کیے جائیں اور

رپورٹ سندیکیٹ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائے۔ سلیمان احمد نے اپنے خط کو ایسے کسی بھی تدریسی تقرر کے

خلاف باضابطہ اعتراض اور اختلافی نوٹ قرار دیا ہے جو ایچ ای سی اور پی ایم ڈی سی کے متعلقہ معیار پر مکمل

عمل کے بغیر کیا جائے، اور اسے سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنانے کی درخواست کی ہے۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

وی سی پنجاب یونیورسٹی اور ملازمین ایسوسی ایشن کے درمیان اہم ملاقات، رکی ہوئی مراعات اور مسائل کے حل پر پیشرفت

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) میاں حمزہ شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر وزیر اعظم پاکستان کے کوآرڈینیٹر…

2 گھنٹے ago

طلبہ حقوق کے لیے اسلامی جمعیت طلبہ کا رحیم یار خان سے لاہور ‘روڈ کارواں’ کا اعلان

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) اسلامی جمعیت طلبہ تنظیم نے 9 نومبر سے 24 نومبر 2026ء تک رحیم…

3 گھنٹے ago

کراچی, فرسٹ ایئر سالانہ نتائج 2026 کا نئے گریڈنگ سسٹم کے تحت اعلان

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے چیئرمین فقیر محمد لاکھو کی ہدایت پر…

3 گھنٹے ago

کراچی یونیورسٹی,مستحق طلبہ اور فیکلٹی آف آرٹس کے لیے 5 کروڑ کے اینڈومنٹ فنڈ کا قیام

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سیم قاسمی نے تعلیم کی ترویج…

3 گھنٹے ago

طلبہ میں سائنسی سوچ کےفروغ کیلئے سندھ میں ساڑھے 8 ہزار سائنس اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان

کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) سندھ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور ریاضی (اسٹیم) کی تعلیم کو فروغ…

3 گھنٹے ago

پنجاب کے تعلیمی اداروں کو 48 گھنٹوں میں بنیادی سہولیات اور طلباء کی تصدیق کا حکم

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب بھر کے سکولوں میں طلباء کی مردم شماری کی منظوری کے بعد…

4 گھنٹے ago