ڈیرہ اسماعیل خان ( نمائندہ خصوصی)گومل یونیورسٹی میں ڈگریوں کے اجراء کا ایک بہت بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں 2019ء سے 2025ء کے دوران مبینہ جعلی ڈگریوں کی تعداد 1500 تک پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ ڈگریاں گومل یونیورسٹی سے ملحقہ مختلف پرائیویٹ کالجز کو جاری کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق ان مبینہ جعلی اسناد میں:
- انسٹیٹیوٹ آف ماڈرن ایجوکیشن ایڈمنسٹریشن، جوہر آباد کو 113 ڈگریاں جاری کی گئیں۔
- پنجاب کالج آف گریجویٹ اسٹڈیز، فیصل آباد کو 361 ڈگریاں جاری کی گئیں۔
مجموعی طور پر ایسی مبینہ جعلی ڈگریوں کی تعداد 1500 سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم، متعلقہ پرائیویٹ کالجز کی جانب سے ان مبینہ جعلی ڈگریوں کی اونرشپ (ملکیت) قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا گیا ہے۔
سابق وائس چانسلر کا دور اور ایف آئی اے انکوائری، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مبینہ جعلی ڈگریاں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے قریبی اور گومل یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شکیب اللہ کے دور میں جاری کی گئیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کی جانب سے اس اسکینڈل کی انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔
انکوائری کے دوران اس سلسلے میں ملوث گومل یونیورسٹی کے 4 اہم اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے جن میں شامل ہیں:
- محمد وسیم (ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات، جو پہلے کنٹرولر امتحانات تھے)
- ریاض احمد (ایڈیشنل ڈائریکٹر آئی ٹی)
- سابق ڈائریکٹر آئی ٹی
- ڈاکٹر ثاقب خان (ڈائریکٹر ایفلی ایشن)
ان تمام معطل اہلکاروں کا معاملہ مزید انکوائری کے لیے ایف آئی اے کو بھیج دیا گیا ہے۔
حکومتی مؤقف، دوسری جانب ترجمان گومل یونیورسٹی کے مطابق، صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا مینا خان آفریدی نے اس حالیہ اسکینڈل کا سخت نوٹس لیا ہے اور انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اس گھناؤنے کھیل میں ملوث تمام کرداروں کے خلاف کسی بھی رعایت کے بغیر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

