لاہور (کورٹ رپورٹر) لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب حکومت کا وومن یونیورسٹی سیالکوٹ کی اراضی انتظامی دفاتر کے لیے ایکوائر کرنے کا فیصلہ چیلنج کر دیا گیا ہے۔ طالبہ ایمن و دیگران نے موقف اپنایا کہ 200 ایکڑ پر مشتمل سیالکوٹ وومن یونیورسٹی میں 11 ہزار سے زائد طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ یونیورسٹی میں 62 ڈگری پروگرام چل رہے ہیں۔
درخواست میں بتایا گیا کہ ڈپٹی کمشنر نے سرکاری دفاتر کے لیے 120 ایکڑ اراضی واپسی کے لیے خط لکھا، تاہم یونیورسٹی بلاکس، ریسرچ سینٹرز و دیگر مقاصد کے لیے 141 ایکڑ اراضی پہلے ہی استعمال کی جا چکی ہے۔ یونیورسٹی نے نئے اکیڈمک بلاکس کی وجہ سے اراضی دینے سے انکار کر دیا ہے، کیونکہ آنے والے چند سالوں میں طالبات کی تعداد 25 ہزار سے بھی بڑھ جائے گی۔
درخواست گزاروں کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ تعلیمی مقاصد کے لیے لی گئی اراضی واپس نہیں لی جا سکتی۔ 18 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد 2500 ایکڑ کے ساتھ سب سے زیادہ جبکہ سب سے کم رقبے 200 ایکڑ پر یو ای ٹی نارووال کیمپس مشتمل ہے۔
16 مارچ کو صوبائی کابینہ کی 120 ایکڑ اراضی ایکوائر کرنے کی منظوری کے بعد انتظامیہ کسی بھی وقت یونیورسٹی کی اراضی پر قبضہ کر سکتی ہے۔ لہٰذا استدعا ہے کہ عدالت صوبائی کابینہ کا انتظامی دفاتر کے لیے اراضی ایکوائر کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور یونیورسٹی کی اراضی پر قبضہ سے روکے۔
پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر، انگریزی…
لاہور(کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے سندر میں نجی یونیورسٹی کی طالبہ کو سنگین…
ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری کراچی(سپیشل رپورٹر)سندھ کی…
مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جاری کردہ…
پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں ہونے والی بھرتیوں کے حوالے سے…
پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک)فرانس میں ابتر تعلیمی نظام، اساتذہ کی شدید کمی اور نئی داخلہ پالیسی…