لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی (آئی ٹی یو) پنجاب نے ،ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، گلوبل الائنس فار امپرووڈ نیوٹریشن اور بیٹھک سوسائٹی کے اشتراک سے عارفہ کریم ٹاور لاہور میں واقع افکارِ تازہ کارنر میں خوراک کے ضیاع میں کمی کے موضوع پر ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔
کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر آئی ٹی یو، پروفیسر ڈاکٹر عدنان نور میاں نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ڈاکٹر امداد حسین کانفرنس کے کنوینر تھے۔ افتتاحی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی، جناب فرحان عزیز خواجہ؛ ڈائریکٹر جنرل ،ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، جناب حماد نقی خان؛
پنجاب یونیورسٹی, شعبہ جینڈر سٹڈیز کے زیر اہتمام صنفی تشدد پر سیمینار
چیئرمین اللہ والا ٹرسٹ، جناب شاہد لون؛ چیئرمین و چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیکنالوجی ایکسچینج اینڈ کوآرڈینیٹر، جناب صدیق الرحمٰن رانا؛ اور GAIN پاکستان کے جناب سید قیصر سعید سمیت ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
کانفرنس میں سرکاری حکام، ماہرینِ تعلیم، شعبۂ ترقی سے وابستہ پیشہ ور افراد اور صنعتی نمائندگان نے شرکت کی اور پاکستان میں خوراک کے ضیاع کو کم کرنے، غذائی تحفظ کو بہتر بنانے اور پائیدار غذائی نظام کے فروغ کے لیے قابلِ عمل حکمتِ عملیوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
کانفرنس کے مختلف سیشنز میں عادل ڈینیئل ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، سید قیصر سعید (GAIN پاکستان)، فراز قصوری (کوتھم لاہور)، محسن بھٹی (ماہرِ خوراک اور بلاگر)، غفار شہزاد (محکمہ اوقاف)، سائرہ افتخار (اقوامِ متحدہ کی عالمی غذائی مہم)، امتیاز حسین (پنجاب فوڈ اتھارٹی)، عاقب ممتاز (بٹ لاجکس)،
عامر ریاض (ٹیکسٹ بک اینڈ کریکولم اتھارٹی)، اعظم ناز (سول سروسز اکیڈمی)، موسیٰ عامر (رزق)، زیب وسیم (سوشل ویلفیئر ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ)، عامر قریشی (پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن)، مسعود خان ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، ڈاکٹر بلال صادق (فوڈ ڈیپارٹمنٹ، ایف سی کالج یونیورسٹی) اور زینب الطاف (پالیسی تجزیہ کار) سمیت دیگر ماہرین اور شعبے سے وابستہ افراد نے اپنے خیالات اور تجربات کا اظہار کیا۔
وزیر تعلیم سندھ کا صحافیوں کے بچوں کو تعلیمی وظائف اور معاونت فراہم کرنے کا اعلان
سیشنز میں خوراک کے تحفظ، خوراک کو نئے اور مفید استعمال میں لانے، غذائی شعور اجاگر کرنے، نوجوانوں کی شمولیت، کمیونٹی کو متحرک کرنے، ریسٹورنٹس میں خوراک کے ضیاع میں کمی، زیرو ویسٹ پر مبنی زراعت اور خوراک کے ضیاع کو قیمتی وسائل میں تبدیل کرنے کے جدید طریقوں پر گفتگو کی گئی۔
مباحثوں میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مشترکہ کوششوں، تکنیکی جدت، عوامی آگاہی اور مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کے ذریعے پاکستان میں غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے، غذائیت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، قدرتی وسائل کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے اور خوراک کے پائیدار استعمال کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
لاہور (سپیشل رپورٹر)حکومت پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے…
لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)یورپی میتھمیٹیکل سوسائٹی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے عبدالسلام سکول آف میتھمیٹیکل…
کوٹری (نمائندہ حصوصی) سپین کی بین الاقوامی کمپنی ایڈبیون کے وفد نے چیف ایگزیکٹو آفیسر…
لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر سٹڈیز کے زیرِ اہتمام "صنفی بنیاد پر…
بہاولنگر (نیٹ نیوز + بشکریہ ڈان نیوز) بہاولنگر کے گاؤں 186/7-آر میں وزیراعلیٰ پنجاب پروگرام…
حیدرآباد (نمایندہ اردوتعلیم ڈاٹ کام) گورنمنٹ ریٹائرڈ ٹیچرز ایسوسی ایشن (گسٹا) حیدرآباد سٹی کا ایک…