spot_img

ذات صلة

جمع

جی سی یو ، منتخب ڈگری پروگرامز کی فیس میں 60 فیصد تک کمی

جی سی یو کا تاریخی فیصلہ: منتخب ڈگری پروگرامز...

یونیورسٹیز اور کالجز میں دوروزہ تعطیل، 4 دن آن لائن کلاسز کا حکم

پٹرولیم بحران کا اثر: خیبر پختونخوا میں یونیورسٹیز اور...

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا افتتاح

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا...

افغانستان میں پھنسے مزید 110 پاکستانی طلباء وطن واپس پہنچ گئے

جمرود (نمائندہ خصوصی) افغانستان میں گزشتہ 10 ماہ سے پھنسے...

یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں میرٹ کی مبینہ پامالی اور اقربا پروری کا انکشاف

یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں میرٹ کی مبینہ پامالی اور اقربا پروری کا انکشاف، وزیر اعلیٰ سے مداخلت کی اپیل

پشاور (نیوز رپورٹر)یونیورسٹی آف ملاکنڈ میں بھرتیوں اور ترقیوں میں میرٹ کی مبینہ پامالی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور سیاسی مداخلت کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ متاثرہ اساتذہ اور جامعہ کی تنظیموں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو خط لکھ کر معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کروانے کی درخواست کر دی ہے۔

مبینہ بے قاعدگیوں کی تفصیلات:

دستاویزات کے مطابق مختلف شعبہ جات میں میرٹ کو نظر انداز کرنے کے درج ذیل کیسز سامنے آئے ہیں:

شعبہ نباتیات: میرٹ لسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے ڈاکٹر علی حضرت کو نظر انداز کر کے مبینہ طور پر غیر متعلقہ تخصص (Specialization) رکھنے والے ڈاکٹر فضل ہادی کو پروفیسر کے عہدے کے لیے تجویز کیا گیا۔

شعبہ بایو کیمسٹری: اعلیٰ میرٹ اور سینیارٹی رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز کو نظر انداز کیا گیا، جبکہ مبینہ طور پر ایک لیکچرر ڈاکٹر نوشین کو دو درجاتی ترقی دے کر ایسوسی ایٹ پروفیسر بنا دیا گیا۔ اس امتیازی سلوک پر چیئرمین شعبہ ڈاکٹر عالم زیب نے احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا اور دستخط سے انکار کر دیا۔

شعبہ کامرس: ڈاکٹر عالم زیب کے انٹرویو نمبرز میں مبینہ طور پر کمی کی گئی۔ وہ 48.35 نمبر حاصل کرنے کے باوجود منتخب نہ ہو سکے، جبکہ 46.36 نمبر لینے والے امیدوار کو کامیاب قرار دے دیا گیا۔

خط میں یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ اس سے قبل یونیورسٹی آف ہری پور میں بھی ایسی ہی بے قاعدگیوں پر صوبائی حکومت نے تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم کی تھی، لہٰذا ملاکنڈ یونیورسٹی کے معاملے پر بھی فوری ایکشن لیا جائے۔