اہم ترین

سابقہ گولڈ میڈلسٹ امیدوار پی ایم ایس نتائج کے خلاف ہائیکورٹ پہنچ گئی

پشاور(ایجو کیشن رپورٹر) پی ایم ایس نتائج کے خلاف...

ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر مقرر

ڈاکٹر وسیم قاضی جامعہ کراچی کے نئے وائس چانسلر...

پروفیسرحضرت علی چیرمین تعلیمی بورڈ مردان تعینات

مردان (ایجو کیشن رپورٹر) حکومت خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی...

پشاور، سرکاری جامعات میں بھرتیوں کی تحقیقات مکمل، رپورٹ صوبائی حکومت کو ارسال

پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات میں...

سندھ ہائیکورٹ کا بڑا حکم, اساتذہ کے ٹائم اسکیل ختم کرنے اور کٹوتیوں پر حکمِ امتناع جاری

"ادھر کیڈر” اساتذہ سے جبری وصولی روک دی گئی، محکمہ تعلیم اور خزانہ سے جواب طلب

ریٹائرڈ اور حاضر سروس اساتذہ کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دیں گے، عدالت کے ریمارکس

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے محکمہ تعلیم کے "ادھر کیڈر” اساتذہ کے ٹائم اسکیل ختم کرنے اور دی گئی اضافی مراعات واپس لینے کے حکومتی فیصلے پر ہتھوڑا چلا دیا۔ عدالتِ عالیہ نے اساتذہ کی درخواست پر حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ آئندہ سماعت تک کسی بھی استاد کی تنخواہ یا پنشن سے کسی قسم کی کٹوتی یا جبری وصولی نہ کی جائے۔

کیس کی سنسنی خیز تفصیلات: سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ محکمہ تعلیم میں ڈرائنگ ٹیچرز، ورکر انسٹرکٹرز اور دیگر کیڈرز سے تعلق رکھنے والے حاضر سروس اور ریٹائرڈ اساتذہ کو برسوں سے قواعد و ضوابط کے تحت ترقیاں اور ٹائم اسکیل دیے جا رہے تھے۔ حکومتِ سندھ کی پالیسی کے مطابق ان اساتذہ کو گریڈ 15 سے 20 تک کی تنخواہیں ادا کی جاتی رہیں، لیکن اچانک محکمہ خزانہ نے ایک ظالمانہ خط لکھ کر ان تمام مراعات کو ختم کرنے اور ماضی میں دی گئی رقوم واپس لینے کا حکم دے دیا۔

عدالتی ریمارکس اور حکم نامہ: سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ:

  • پرائمری اور سیکنڈری اساتذہ کو تمام مراعات مل رہی ہیں، تو صرف "ادھر کیڈر” کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں؟
  • کئی اساتذہ ریٹائر ہو چکے ہیں، اب ان سے رقم کی واپسی کا مطالبہ غیر قانونی اور غیر انسانی ہے۔
  • محکمہ تعلیم نے آنکھیں بند کر کے محکمہ خزانہ کے مراسلے پر عملدرآمد شروع کر دیا جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔

فیصلہ: عدالت نے اساتذہ کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے حکم دیا کہ 20 اپریل تک کسی بھی استاد کے اسکیل یا تنخواہ کو نہ چھیڑا جائے۔ عدالت نے سیکرٹری تعلیم اور محکمہ خزانہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے ہزاروں متاثرہ اساتذہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے اسے انصاف کی جیت قرار دیا ہے۔