Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
HomeUncategorizedسندھ میں امتحانی شفافیت پر سوالیہ نشان، دسویں اور گیارہویں جماعت کے...

سندھ میں امتحانی شفافیت پر سوالیہ نشان، دسویں اور گیارہویں جماعت کے پرچے آؤٹ

سندھ میں امتحانی شفافیت پر سوالیہ نشان، دسویں اور گیارہویں جماعت کے پرچے آؤٹ، نقل کا بازار گرم

سندھ (نیوز ڈیسک) سندھ کے مختلف اضلاع میں جاری امتحانات کے دوران شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ جیکب آباد اور گھوٹکی سے دسویں اور گیارہویں جماعت کے امتحانی پرچے وقت سے قبل آؤٹ ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں، جس نے امتحانی بورڈز کے انتظامات کا پول کھول دیا ہے۔

جیکب آباد: دسویں جماعت کا اُردو کا پرچہ واٹس ایپ پر وائرل

جیکب آباد میں سیکنڈری اسکول سرٹیفکیٹ (میٹرک) کے امتحانات کے دوران دسویں جماعت کا اُردو کا پرچہ امتحان شروع ہونے سے پہلے ہی سوشل میڈیا اور مختلف واٹس ایپ گروپس میں گردش کرنے لگا۔

پرچہ آؤٹ ہونے کے باعث امتحانی مراکز میں نقل کا رجحان عروج پر پہنچ گیا۔ ذرائع کے مطابق، بعض مقامات پر مبینہ طور پر پیسے لے کر باہر سے پرچہ حل کروا کر طلباء کو فراہم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا، جس سے قابل طلبہ کی حق تلفی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

گھوٹکی: انٹرمیڈیٹ امتحانات کے آغاز پر ہی انگلش کا پرچہ آؤٹ

دوسری جانب، گھوٹکی ضلع میں سکھر بورڈ کے زیرِ اہتمام انٹرمیڈیٹ (انٹر) کے امتحانات کے آغاز پر ہی بدنظمی دیکھنے میں آئی۔ یہاں گیارہویں جماعت کا انگلش کا پرچہ بھی وقت سے پہلے آؤٹ ہو گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انگلش کا پرچہ بھی واٹس ایپ گروپس میں تیزی سے شیئر ہوتا رہا، جس کے بعد امتحانی مراکز کے اندر اور باہر حل شدہ مواد کی فراہمی کی شکایات موصول ہوئیں۔

ان واقعات نے سندھ میں تعلیمی بورڈز کی انتظامی صلاحیت اور امتحانی نظام کی ساکھ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ والدین اور تعلیمی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے ان واقعات کا فوری نوٹس لینے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔


اردو تعلیم – تعلیمی دنیا کی ہر خبر