یونیورسٹی انتظامیہ کی مداخلت پر فریقین میں راضی نامہ، پولیس کو کارروائی سے روک دیا گیا
پشاور (جنرل رپورٹر) زرعی یونیورسٹی پشاور کی کینٹین میں طلبہ اور عملے کے درمیان معمولی بات پر شروع ہونے والا جھگڑا شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں مشتعل طلبہ نے رات گئے شدید ہنگامہ آرائی کی اور وارڈن کے دفتر میں توڑ پھوڑ کے بعد سرکاری دستاویزات کو آگ لگا دی۔
ذرائع کے مطابق واقعہ کینٹین میں کسی نامعلوم بات پر تکرار سے شروع ہوا۔ مشتعل طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے وارڈن آفس پر دھاوا بول دیا، جہاں انہوں نے دروازے توڑ دیے اور دفتر میں موجود اہم ریکارڈ کو نذر آتش کر دیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پرووسٹ اور دیگر یونیورسٹی افسران موقع پر پہنچ گئے اور طلبہ کے ساتھ مذاکرات کیے۔
پولیس حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے صلح صفائی کی کوششوں کے بعد فریقین کے درمیان راضی نامہ طے پا گیا ہے اور معاملہ رفع دفع کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تاحال پولیس کو کسی قسم کی قانونی کارروائی یا مراسلہ ارسال نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے پولیس نے باقاعدہ رپورٹ درج نہیں کی۔

