spot_img

ذات صلة

جمع

جی سی یو ، منتخب ڈگری پروگرامز کی فیس میں 60 فیصد تک کمی

جی سی یو کا تاریخی فیصلہ: منتخب ڈگری پروگرامز...

یونیورسٹیز اور کالجز میں دوروزہ تعطیل، 4 دن آن لائن کلاسز کا حکم

پٹرولیم بحران کا اثر: خیبر پختونخوا میں یونیورسٹیز اور...

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا افتتاح

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا...

افغانستان میں پھنسے مزید 110 پاکستانی طلباء وطن واپس پہنچ گئے

جمرود (نمائندہ خصوصی) افغانستان میں گزشتہ 10 ماہ سے پھنسے...

ڈگریوں کے ڈیٹا لیک ہونے کے دعوے بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں، ہائر ایجوکیشن کمیشن

سوشل میڈیا پر زیر گردش ریکارڈ کا ایچ ای سی کے ڈگری ویری فکیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں، ترجمان کی وضاحت

اسلام آباد (ویب ڈیسک) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے سوشل میڈیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر ڈگریوں کے مبینہ ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق پھیلنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا ہے۔

ایچ ای سی کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیانیہ میں ترجمان نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کے برعکس، لیک ہونے والے مبینہ ریکارڈ کا ایچ ای سی کے ڈگری ویری فکیشن سسٹم (Degree Verification System) سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ ترجمان نے ڈیٹا لیک ہونے کا دعویٰ کرنے والی تمام رپورٹس کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا ہے۔

سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی تحقیقات

اعلامیے کے مطابق، معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایچ ای سی کے اپنے ‘سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر’ نے اس حوالے سے تفصیلی اور تکنیکی تحقیقات کیں۔ انکوائری سے یہ بات حتمی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ریکارڈ ایچ ای سی کے کسی بھی سسٹم یا ڈیٹا بیس سے حاصل نہیں کیا گیا، اور ادارے کا تمام تر ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہے۔

عوام سے اپیل

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے شہریوں، اساتذہ اور طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کی غیر مصدقہ افواہوں اور گمراہ کن معلومات کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔ ادارے نے زور دیا ہے کہ ایسی حساس نوعیت کی خبروں پر کان دھرنے کے بجائے صرف اور صرف مستند اور سرکاری ذرائع سے حاصل شدہ معلومات پر ہی اعتماد کیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند روز سے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایچ ای سی کی ڈگریوں کے ڈیٹا ہیک یا لیک ہونے کے دعوے کیے جا رہے تھے، جس کے بعد عوام میں پائے جانے والے تشویش کے پیشِ نظر ادارے نے یہ باضابطہ اور تفصیلی وضاحت جاری کی ہے۔