Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeتازہ ترینراجن پور میں یونیورسٹی نہ ہونے پر پیپلز پارٹی کا اسمبلی میں...

راجن پور میں یونیورسٹی نہ ہونے پر پیپلز پارٹی کا اسمبلی میں احتجاج

لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں جنوبی پنجاب، بالخصوص ضلع راجن پور میں اعلیٰ تعلیم کی عدم دستیابی اور یونیورسٹیوں کے انضمام کے معاملے پر شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ عابد نے ضلع راجن پور میں یونیورسٹی نہ ہونے پر سخت احتجاج کیا اور میر چاکر خان رند یونیورسٹی کو غازی یونیورسٹی میں اکٹھا (ضم) کرنے کی مبینہ کوششوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

رکن اسمبلی شازیہ عابد کا کہنا تھا کہ راجن پور پنجاب کا پسماندہ ترین ضلع ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ وہاں آج تک کوئی آزاد یونیورسٹی قائم نہیں کی گئی، اور اب الٹا میر چاکر خان یونیورسٹی کو غازی یونیورسٹی میں ضم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ حلقے کے طلبہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔

ایوان میں بحث کا حصہ بنتے ہوئے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر علی حیدر گیلانی نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیم کو محض اخراجات کے چشمے سے دیکھنے کے بجائے ایک ‘قومی سرمایہ’ تسلیم کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دو الگ الگ تعلیمی اداروں یا یونیورسٹیوں کو آپس میں ملانے سے ہمیشہ تعلیم کا نقصان ہوتا ہے، اس لیے ایسے فیصلوں سے گریز کیا جائے۔

وزیر تعلیم کا جواب اور اعتراف: پیپلز پارٹی کے احتجاج پر جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے ایوان میں اعتراف کیا کہ پنجاب کے 8 اضلاع ایسے ہیں جہاں سرے سے کوئی یونیورسٹی ہی موجود نہیں ہے۔ میر چاکر خان یونیورسٹی کے حوالے سے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت وہاں صرف ساڑھے تین سو (350) طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، اور اتنی کم تعداد کے ساتھ ایک مکمل یونیورسٹی کو آزادانہ طور پر چلانا انتظامی اور مالی طور پر انتہائی مشکل ہے۔

تاہم، رانا سکندر حیات نے راجن پور کے عوام کے لیے خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت راجن پور کے طلبہ کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے وہاں یونیورسٹیوں کے 2 نئے سب کیمپسز کھولنے جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غازی یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جہاں پہلے طلبہ کی تعداد 4 ہزار تھی، وہ اب بڑھ کر 9 ہزار ہو چکی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت جنوبی پنجاب کے اضلاع میں معیارِ تعلیم اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔