ملک کی تعلیمی تاریخ میں پہلا بڑا قدم: پرائمری سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس لازمی مضمون قرار، پاس کرنا بھی ضروری ہوگا
لاہور/اسلام آباد (ویب ڈیسک)
محکمہ تعلیم نے ایک انقلابی تعلیمی اصلاحات کے تحت پرائمری سطح پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کو باقاعدہ ایک لازمی مضمون کے طور پر شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ ملک کی تعلیمی تاریخ میں یہ منفرد اور جدید ترین اقدام پہلی بار اٹھایا جا رہا ہے، جس کا مقصد نجی و سرکاری اسکولوں کے ڈھانچے کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق، آئندہ تعلیمی سیشن 2027-28 سے جماعت اول تا پنجم (کلاس 1 سے 5) کے نصاب میں اے آئی کو بطور لازمی سبجیکٹ شامل کیا جا رہا ہے۔ اس نئے تعلیمی فارمیٹ کے تحت روزانہ کے ٹائم ٹیبل میں اے آئی کے مضمون کے لیے باقاعدہ ایک الگ پیریڈ مختص کیا جائے گا، جس طرح ریاضی، سائنس اور دیگر بنیادی مضامین کے لیے کیا جاتا ہے۔
امتحانات میں پاس کرنا لازمی ہوگا
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک معلوماتی یا غیر نصابی سرگرمی نہیں ہوگی، بلکہ نئے امتحانی نظام کے تحت طلبہ کو اے آئی کا سالانہ پیپر بھی باقی تمام لازمی مضامین کی طرح باقاعدہ پاس کرنا ہوگا، بصورتِ دیگر اگلی کلاس میں ترقی ممکن نہیں ہوگی۔
اقدام کے مقاصد اور فوائد
تعلیمی حکام اور پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ اس تاریخی اقدام کے دور رس نتائج حاصل ہوں گے:
- ابتدائی عمر میں ٹیکنالوجی کا تعارف: بچوں کو بالکل ابتدائی عمر سے جدید ترین ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر کوڈنگ کے بنیادی اصولوں سے روشناس کرایا جا سکے گا۔
- ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ: یہ مضمون بچوں کی منطقی سوچ (Logical Thinking) اور ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
- تخلیقی صلاحیتوں کا فروغ: آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تعلیم سے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں (Creativity) اور روزمرہ کے علوم سیکھنے کی رفتار میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
اے آئی (AI) نصاب کی منظوری کا اہم مرحلہ
محکمہ تعلیم نے مزید بتایا ہے کہ اس تاریخی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اے آئی نصاب کی ابتدائی منظوری آج “پیکٹا بورڈ آف گورنرز کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد اساتذہ کی تربیت (Teacher Training) اور کتابوں کی طباعت کا کام ترجیحی بنیادوں پر شروع کر دیا جائے گا۔

