اکیڈمیز اور ٹیوشن سنٹرز کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کی کوتاہی بے نقاب؛ ایم پی اے امجد علی جاوید کا قانون سازی کا بل 8 ماہ سے التوا کا شکار ہونے کا انکشاف، حکومتی ترجیحات پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے
لاہور (ایجوکیشن رپورٹر)
لاہور کے تعلیمی اداروں میں پیش آنے والے حالیہ دلخراش حادثات کے بعد اب صوبے میں اکیڈمیز اور ٹیوشن سنٹرز کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے پنجاب اسمبلی کی مجرمانہ کوتاہی بھی سامنے آ گئی ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے رکنِ صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) امجد علی جاوید کی جانب سے اکیڈمیز اور ٹیوشن سنٹرز سے متعلق پیش کیا گیا اہم ترین قانونی بل گزشتہ 8 ماہ سے اسمبلی میں التوا کا شکار ہے۔
امجد علی جاوید نے آٹھ ماہ قبل صوبے میں موجود اکیڈمیز اور ٹیوشن سنٹرز کے حوالے سے جامع قانون سازی پر زور دیتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں ایک باقاعدہ بل منظوری کے لیے جمع کروایا تھا۔ اس بل میں انہوں نے واضح طور پر ذکر کیا تھا کہ صوبے بھر میں قائم نجی اکیڈمیوں اور ٹیوشن سنٹرز کے خلاف طالب علموں کو ہراساں کرنے، مارپیٹ اور منشیات (نشہ) کے استعمال سے متعلق سنگین شکایات موصول ہوتی ہیں، لیکن چونکہ حکومت اور متعلقہ محکموں کے پاس ان اداروں کی رجسٹریشن اور کوئی باقاعدہ ڈیٹا موجود نہیں ہے، اس لیے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو پاتی۔ انہوں نے بل میں موقف اختیار کیا تھا
کہ ان تمام اداروں کو فوری طور پر قانون اور ضابطے کے دائرے میں لایا جائے تاکہ طلبہ و طالبات سے متعلق شکایات کو موثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔ ایم پی اے امجد علی جاوید نے ‘روزنامہ خبریں’ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے گہرے گلے کا اظہار کیا اور کہا کہ حکومت جن بلز پر قانون سازی چاہتی ہے وہ تو راتوں رات اسمبلی سے پاس کروا لیے جاتے ہیں، لیکن جہاں حکومتی پسند و ناپسند کا معاملہ آ جائے تو پھر عوامی مفاد کے ایسے اہم بل مہینوں اور سالوں اسمبلیوں کی فائلوں میں دبے پڑے رہتے ہیں، جس کا خمیازہ عوام اور معصوم طلبہ کو بھگتنا پڑ رہا ہے

