Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeبریکنگ نیوزشاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور ، 1200 سے زائد ایل ایل بی کی...

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور ، 1200 سے زائد ایل ایل بی کی مشتبہ اسناد منسوخ کرنے کی منظوری

مشتبہ ڈگری ہولڈرز میں ملک کے نامور قانون دان بھی شامل؛ حتمی کارروائی سے قبل 15 روزہ عوامی نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ

خیرپور (خصوصی رپورٹر)

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور نے اعلیٰ تعلیمی نظام میں بدعنوانی کے خاتمے، شفافیت اور کڑے احتساب کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے ملحقہ لاء کالجز کی 1200 سے زائد ایل ایل بی (LLB) کی مشتبہ اسناد منسوخ کرنے کا ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ ان مشتبہ ڈگری ہولڈرز میں ملک کے کئی نامور قانون دان بھی شامل ہیں، جن کی اسناد کی منسوخی کے لیے باقاعدہ عوامی نوٹس جاری کیا جا رہا ہے۔ جامعہ کے اس جرات مندانہ اقدام کو یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اعلیٰ تعلیم کے نظام میں قانون کی بالادستی، احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کی ایک اہم اور منفرد مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

وائس چانسلر کی قیادت میں خصوصی ٹیم کی 2 سالہ تحقیقات

ذرائع کے مطابق، موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف خشک کی قیادت میں سینئر پروفیسرز اور سینئر افسران پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم نے گزشتہ 2 برس کے دوران جامعہ میں شفافیت، احتساب اور قانون کی بالادستی کے لیے متعدد مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ ان ہی مسلسل اور منظم کوششوں کے نتیجے میں ریکارڈ کی جامع جانچ، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور سنڈیکیٹ کے فیصلوں کی روشنی میں یہ تاریخی کارروائی اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی، جس کے بعد یہ معاملہ یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے 92ویں اجلاس میں حتمی منظوری کے لیے پیش اور منظور کیا گیا۔

فیصلوں کی روشنی میں قائم کردہ اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی نے یونیورسٹی اور متعلقہ ملحقہ لاء کالجز کے ریکارڈ کی تفصیلی جانچ، تصدیق اور موازنہ مکمل کیا۔ تحقیقات کے دوران بڑے پیمانے پر مشتبہ ریکارڈز کی نشاندہی کی گئی، جبکہ متعدد متعلقہ لاء کالجز نے بھی ایسے بوگس اندراجات سے باقاعدہ لاتعلقی ظاہر کر دی ہے۔

انتظامیہ کی اصلاحاتی مہم کے 3 بڑے مراحل

سنڈیکیٹ کی منظوری سے اسناد کی منسوخی کی یہ کارروائی موجودہ یونیورسٹی انتظامیہ کی جاری اصلاحاتی مہم کا تیسرا بڑا اور حتمی مرحلہ ہے

  • پہلا مرحلہ: مبینہ جعلی ریکارڈ اور ڈگریوں کے معاملات سامنے آنے پر 128 افراد کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آرز (FIRs) درج کروائی گئیں۔
  • دوسرا مرحلہ: اس جعل سازی کے معاملے سے جڑے 8 سے زائد یونیورسٹی افسران کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے انہیں ملازمتوں سے معطل کیا گیا اور ان کے جامعہ میں داخلے پر مستقل پابندی عائد کی گئی۔
  • تیسرا مرحلہ: اب مختلف ملحقہ لاء کالجز سے تعلق رکھنے والے 1200 سے زائد مشتبہ ایل ایل بی ڈگری ریکارڈز کے حوالے سے آخری عوامی نوٹس جاری کیا جا رہا ہے۔

قانون کے مطابق حقِ سماعت اور 15 دن کی مہلت

جامعہ کی انتظامیہ کے مطابق، اس عوامی نوٹس کا بنیادی مقصد تمام متعلقہ افراد کو قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق ‘حقِ سماعت’ فراہم کرنا ہے۔ جاری کردہ نوٹس کے تحت متعلقہ امیدواروں کو 15 روز کے اندر اپنے دعوے اور ڈگری کے حق میں مستند دستاویزی ثبوت پیش کرنے کی آخری ہدایت کی گئی ہے۔ اگر کسی امیدوار کے پاس مقررہ مدت کے اندر قابلِ قبول دستاویزی ثبوت موجود ہوں گے تو وہ پیش کر سکے گا، بصورتِ دیگر مقررہ مدت گزرنے کے بعد قانون، ضابطوں اور سنڈیکیٹ کے فیصلوں کے مطابق متعلقہ تمام ڈگریاں اور امتحانی نتائج مستقل طور پر منسوخ کر دیے جائیں گے۔