لاہور (ایجو کیشن رپورٹر)
بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور میں انتظامی افسران کی باہمی کھینچا تانی اور مبینہ سازشیں عروج پر پہنچ گئیں، جہاں نئے چیئرمین تعلیمی بورڈ انجینئر ڈاکٹربدرالاسلام کے چارج سنبھالتے ہی بورڈ کی انتظامیہ نے ان کے ساتھ ‘شرارتیں’ اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں۔ نئے چیئرمین کی آمد سے محض ایک روز قبل ان کے دفتر کے باہر راتوں رات چیئرمین ٹاسک فورس برائے ایگزامینیشن ریفارمز مزمل محمود کی نیم پلیٹ آویزاں کر کے بورڈ کے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی
ہے۔
تفصیلات کے مطابق تعلیمی بورڈ لاہور میں نئے چیئرمین انجینئر ڈاکٹربدرالاسلام نے ابھی اپنے عہدے کا چارج سنبھالنا ہی تھا کہ بورڈ آفس کے اندر ایک مضحکہ خیز اور افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ نامعلوم اندرونی عناصر نے مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیئرمین کے مختص کردہ سرکاری دفتر کے باہر سے چیرمین کی تختی ہٹا کر وہاں چیئرمین ٹاسک
فورس مزمل محمود کی نیم پلیٹ نصب کر دی ہے
دوسری جانب، جب اس پورے معاملے پر نامزد چیئرمین ٹاسک فورس مزمل محمود سے روزنامہ خبریں نے رابطہ کیا تو انہوں نے اس واقعے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے خود کو اس سے مکمل طور پر لاعلم قرار دیا ہے
گزشتہ روز جب یہ معاملہ سامنے آیا تو بورڈ آفس میں کھلبلی مچ گئی اور بورڈ ملازمین کی جانب سے کہا جاتا رہا کہ یہ سیکرٹری بورڈ رضوان نذیر نے نیم پلیٹ تبدیل کروائی
ہے کیونکہ وہی بورڈ کے تمام انتظامی امور کے ذمہ دار ہیں انکی منظوری کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے جب اس سنگین انتظامی غفلت پر تعلیمی بورڈ لاہور کے سیکرٹری سے انکے موبائل اور واٹس اپ پر بار بار رابط کیا گیا تو کوئی جواب موصول نہ ہوا جبکہ بورڈ کے پی آر او نے بھی فون کالز اور واٹس اپ میسجز کا کوئی جواب نہ دیا ہے انتظامیہ کی جانب سے ٹھوس وضاحت دینے کے بجائے معاملے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے، جس سے یہ شبہ گہرا ہو گیا ہے
کہ اس شرارت میں انتظامیہ برابر کی شریک ہے۔
تعلیمی حلقوں، اساتذہ تنظیموں اور بورڈ کے سنجیدہ افسران نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسے بورڈ کے وقار اور نئے سربراہ کی تذلیل کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور بورڈ جیسے اہم ترین تعلیمی ادارے کو چند شرارتی عناصر نے تماشہ بنا رکھا ہے۔ تعلیمی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ
وہ بورڈ میں موجود اس مافیا اور سازشی عملے کا نوٹس لیں، سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملوث افراد کا تعین کیا جائے اور ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے ذمہ داران کو نوکریوں سے برطرف کر کے سخت ترین تادیبی سزا دی جائے۔

