spot_img

ذات صلة

جمع

اورنگی ٹاؤن، نشیوں کی سریا نکالنے کی کوشش، سکول کی دیوار گرنے سے 5 افراد جاں بحق

کراچی (کرائم رپورٹر) روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے اورنگی...

ناقص نتائج کے حامل سکول سربراہان نوکریوں سے برخاست ہوں گے۔ وزیر تعلیم

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر) نہم دہم کے نتائج کی ذمہ...

پنجاب 5ویں اور 8ویں کے امتحانات پیکٹا کے تحت ہوں گے، فروری 2027 کی تاریخ طے

لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے...

پشاور کے 45 نجی سکولوں میں غیر قانونی افغان طلبہ کے داخلوں کا انکشاف

پشاور (نامہ نگار) پشاور کے 45 نجی سکولوں میں...

’پیماء‘ کا صوبے کے 300 سکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا اعلان

پنجاب میں تعلیم دوست اقدام: ’پیماء‘ کا صوبے کے 300 سکولوں کو اپ گریڈ کرنے کا اعلان

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹو اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (پیماء) نے صوبے بھر کے تعلیمی نیٹ ورک کو وسعت دینے اور خواندگی کی شرح بڑھانے کے لیے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ پیماء نے صوبے کے مختلف اضلاع میں 300 پرائمری سکولوں کو مڈل (لیول 6) پر اپ گریڈ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، یہ اہم فیصلہ پیماء کے 33ویں بورڈ اجلاس میں کیا گیا، جہاں طویل مشاورت کے بعد ان سکولوں کو لیول 6 کا درجہ دینے کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد صوبے میں تعلیمی سہولیات تک رسائی کو آسان بنانا اور بنیادی تعلیم کے ڈھانچے کو مضبوط کرنا ہے۔

اضلاع اور فنڈز کی تفصیلات

ذرائع کے مطابق، اس منصوبے کے تحت پنجاب کے پسماندہ اور دور دراز کے اضلاع کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ابتدائی طور پر جنوبی پنجاب کے اضلاع بشمول بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، راجن پور، اور وسطی و شمالی پنجاب کے دیہی علاقوں کے سکولوں کو اس لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے جہاں مڈل سکولوں کی شدید کمی ہے۔

  • فنڈز کی فراہمی: اس اپ گریڈیشن کے لیے حکومتِ پنجاب اور پیماء کے خصوصی بجٹ سے فنڈز جاری کیے جائیں گے۔ یہ فنڈز سکولوں میں نئے کلاس رومز کی تعمیر، فرنیچر کی فراہمی، سائنسی و کمپیوٹر لیبز کے قیام اور نئے اساتذہ کی تعیناتی پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔

دیہی علاقوں کے طلبہ کے لیے بڑی خوشخبری

پیماء حکام کے مطابق، سکولوں کی اس اپ گریڈیشن کا سب سے زیادہ فائدہ خصوصاً دیہی علاقوں کے طلبہ کو ہوگا۔ اس منصوبے کا مقصد دیہی علاقوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ طلبہ کو اپنے ہی علاقوں میں جدید تعلیمی سہولیات میسر آ سکیں۔

حکام کا مؤقف: اس اقدام سے طلبہ، خصوصاً طالبات کو اب مڈل اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دور دراز کے علاقوں یا بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا، جس سے ان کے سفری اخراجات کی بچت ہوگی اور پرائمری کے بعد تعلیم چھوڑنے والے بچوں (خصوصاً لڑکیوں) کی شرح میں واضح کمی آئے گی۔

spot_imgspot_img