واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکی ریاست ایریزونا میں اپنی گرل فرینڈ کو بے دردی سے قتل کر کے بیرون ملک فرار ہونے والے بھارتی طالب علم کو جرمنی سے گرفتار کر لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، امریکی ریاست ایریزونا کے شہر ٹوسون کی یونیورسٹی کے قریب ایک اپارٹمنٹ سے 6 اگست کو 19 سالہ جلیسا روبائی سالازار کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق مقتولہ کا گلا گھونٹا گیا تھا اور اس کی گردن پر شدید تشدد اور خراشوں کے ہولناک نشانات موجود تھے۔
تحقیقاتی حکام نے بتایا کہ ملزم ورُن باچیگاری نے قتل کی اس لرزہ خیز واردات کے بعد مقتولہ کا موبائل فون اور بینک کارڈز اپنے قبضے میں لے لیے۔ ملزم نے مقتولہ کا فون استعمال کرتے ہوئے اس کی والدہ کو گمراہ کن ٹیکسٹ پیغامات بھیجے تاکہ خاندان کو کسی قسم کا شک نہ ہو۔ تاہم، والدہ کو پیغامات کے انداز پر شک ہوا، جس پر انہوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس کے اپارٹمنٹ پہنچنے پر لڑکی کی لاش برآمد ہوئی۔
مقتولہ کی دوست کے مطابق 5 اگست کو جلیسا کے کمرے سے شدید چیخ و پکار اور لڑائی کی آوازیں آئی تھیں، جس کے کچھ دیر بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔ تشویش پر جب روم میٹ نے جلیسا کو پیغام بھیجا تو جواب ملا کہ “سب ٹھیک ہے، صرف معمولی بحث ہوئی تھی”۔ پولیس کے مطابق یہ پیغام بھی قاتل نے خود مقتولہ کے فون سے بھیجا تھا۔
قتل کے بعد ملزم نے مقتولہ کا بینک کارڈ استعمال کر کے ایئرپورٹ کے لیے ٹیکسی بُک کی اور ہوسٹن سے جرمنی کی فلائٹ پکڑ کر فرار ہو گیا، جہاں سے اس کا ارادہ بھارت جانے کا تھا۔ تاہم امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی اور جرمن حکام کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ملزم کو برلن ایئرپورٹ پر گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق ملزم کو اب قانونی کارروائی کے لیے امریکا منتقل کیا جا رہا ہے۔


