اسلام آباد ( ایجو کیشن رپورٹر) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سیرت النبیﷺ کی روشنی میں ’سماجی تبدیلی اور عدل اجتماعی کا نمونہ‘ کے موضوع پرتقریب کا انعقاد کیا گیا۔ چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت پاکستان، جسٹس ڈاکٹر سید محمد انو ر مہمان خصوصی اور کلیدی مقرر تھے جبکہ وائس چانسلر،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے تقریب کی صدارت کی۔ جسٹس ڈاکٹر سید محمد انو ر نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ ملک جس طرح وجود میں آیا ہے ہمیں اس کا تحفظ بھی ویسے ہی کرنا ہوگا۔
لاالہ الااللہ منزل ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ منزل کے حصول کا ذریعہ اور طریقہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں 57 اسلامی ممالک ہیں، تاہم ان میں صرف چند ممالک ایسے ہیں جن کے آئین میں اسلامی اصولوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ایک نظریاتی ریاست کے طور پر قائم کیا، اس لیے اس کی بقا اور ترقی کا راستہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اجتماعی، معاشی، سیاسی اور عدالتی معاملات کے لیے بھی مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
مدینہ کی ریاست میں عدل، مساوات، انسانی حقوق، رواداری اور قانون کی بالادستی کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ ہمیں معاشرے میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے سیرت النبی ﷺ کے ان اصولوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
اس موقع پرشرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کہا کہ موجودہ معاشرے کو درپیش عدم برداشت، ناانصافی اور معاشرتی تقسیم جیسے مسائل کا حل سیرت النبیﷺ کی کی تعلیمات پر عمل میں مضمر ہے۔انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے رواداری، برداشت، عدل اورعملی نمونہ پیش کیا جسے اپنا کر معاشرے میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔کمزور اور محروم طبقات کی فلاح اسلامی قوانین کی روشنی میں ان کا حل موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے۔
ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں ہر فرد کو عزت، انصاف اور مساوی مواقع میسر ہوں۔ تقریب میں ڈین کلیہ عربی و علوم اسلامیہ پروفیسر ڈاکٹرشاہ محی الدین ہاشمی، چئیرمین شعبہ سیرت اسٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر شاہ معین الدین ہاشمی نے موضوع پر خطاب کیا جبکہ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر طاہر اسلام نے سٹیج سیکٹری کے فرائض انجام دئے۔ تقریب میں فیکلٹی ممبران، پرنسپل افسران، ملازمین اور طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی

