کراچی (ایجو کیشن رپورٹر) انڈس یونیورسٹی کے طلبہ نے کئی ماہ کی تحقیق اور محنت کے بعد اپنے تخلیقی خیالات اور منصوبوں کو ڈیزائن اور عملی تخلیقات کی شکل میں پیش کر دیا۔ یونیورسٹی کی جانب سے منعقدہ فائنل ایئر تھیسس نمائش میں ایک سو آٹھ (108) طلبہ نے اپنے پروجیکٹس ڈسپلے کیے۔ اس نمائش کا مقصد طلبہ کو اپنی فنی مہارت اور تحقیقی صلاحیتوں کو عملی شکل دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔
نمائش میں کمیونیکیشن اینڈ ڈیزائن، ٹیکسٹائل، فیشن، انٹیریئر اور ایڈورٹائزنگ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے اپنے فائنل ایئر تھیسس اور منصوبے پیش کیے:
-
تخلیقی اور ثقافتی ڈیزائنز: نمائش میں صوفی ازم کی خوشبو، راجستھانی ثقافت کے رنگ اور وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب پر مبنی منفرد ڈیزائنز پیش کیے گئے۔
-
صوفیانہ پیغام کا فیشن میں اظہار: فیشن ڈیزائن کی طالبہ مریم نے بابا بلھے شاہ کے کلام میں موجود عاجزی اور سادگی کو اپنے ملبوسات میں خام ریشم اور لکڑی کی خطاطی کے ذریعے پیش کیا۔
-
ماحولیاتی جدت: ایک طالبہ نے سنگترے کے چھلکوں کو استعمال کرتے ہوئے بائیو پلاسٹک لیدر تیار کر کے داد سمیٹی۔
نمائش کا دورہ اساتذہ، طلبہ، والدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے کیا۔ اس موقع پر پرائڈ آف انڈس یونیورسٹی کے چانسلر خالد امین نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کا مقصد طلبہ کو صرف ڈگری دینا نہیں بلکہ انہیں عملی دنیا کے چیلنجز کے لیے تیار کرنا ہے۔ طلبہ نے اپنے تھیسس کے ذریعے ثابت کیا کہ فیشن اور ڈیزائن صرف لباس کا نام نہیں بلکہ یہ تاریخ، ثقافت، انسانیت اور ماحولیات کو بیان کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔

