کراچی ( ایجو کیشن رپورٹر) سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ ایکس ایمپلائز فاؤنڈیشن کا ایک اہم اجلاس ناظم علی خان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں بورڈ انتظامیہ کی جانب سے پبلشرز سے نصابی کتب کی رائلٹی وصول نہ کرنے کے فیصلے پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں شریک تمام ریٹائرڈ افسران نے انتظامیہ کے اس قدم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا اعلان کیا ہے۔
اجلاس کے اہم نکات اور مطالبات:
-
خود مختار ادارہ: اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کوئی عام سرکاری ادارہ نہیں بلکہ خود مختار ادارہ ہے۔ 1970 میں ایک آرڈیننس کے ذریعے چاروں صوبائی ٹیکسٹ بک بورڈز کو خود مختار حیثیت دی گئی تھی اور صوبائی حکومتیں ان بورڈز کو کوئی بجٹ فراہم نہیں کرتیں۔
-
آمدنی کا واحد ذریعہ: آرڈیننس کے مطابق پبلشرز سے ملنے والی رائلٹی ہی بورڈز کی آمدنی کا واحد ذریعہ ہے، جس سے ادارے کے ترقیاتی کام، ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں۔
-
ادارے کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ: رہنماؤں نے خبردار کیا کہ رائلٹی نہ لینے کا فیصلہ آرڈیننس کی خلاف ورزی اور سراسر غیر قانونی ہے۔ اس سے بورڈ کی آمدنی مکمل ختم ہو جائے گی، ادارے کے اثاثے ختم ہوں گے اور بورڈ دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا، جس کا براہِ راست اثر تنخواہوں اور پینشن کی بندش کی صورت میں نکلے گا۔
-
قانونی چارہ جوئی اور یادداشت: بورڈ انتظامیہ کو تحریری یادداشت پیش کی جائے گی اور اس کی کاپیاں اعلیٰ حکام سمیت سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے بورڈ آف گورنرز کو بھی ارسال کی جائیں گی، جبکہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی جائے گی۔
اجلاس میں شفیع چانڈیو، وقار مرزا، غلام حسین کھوکر، ایوب جونیجو، غلام حسین ساند، گلزار بھرگڑی، ڈاکٹر فہیم نوناری، غلام محمد میمن، خورشید تھیبو، عباس علی کلھوڑو اور ترابی انیس میمن سمیت دیگر ریٹائرڈ ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

