اہم ترین

پاکستانیوں کی اکثریت ملکی تعلیمی نظام سے غیر مطمئن

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) پاکستان میں عوامی رائے کے...

پیف کے ہونہار طلبہ کی میٹرک امتحانات میں شاندار کامیابی، کیش پرائز اور لیپ ٹاپ تقسیم

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن  کے صدر...

پنجاب یونیورسٹی ادارہ تعلیم و تحقیق میں محفلِ میلادؐ کا انعقاد

لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ تعلیم و...

تعلیمی اسناد کی تصدیق، ایچ ای سی کا جعلی ایجنٹوں سے خبردار رہنے کا عمومی انتباہ

اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ...

پاکستانیوں کی اکثریت ملکی تعلیمی نظام سے غیر مطمئن

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) پاکستان میں عوامی رائے کے موثر تجزیے کے لیے معروف ادارے انسٹیٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (IPOR) کے حالیہ سروے کے نتائج نے ملکی تعلیمی نظام کی زبوں حالی اور اس پر عوام کے عدم اعتماد کو نمایاں کر دیا ہے۔ سروے کے مطابق پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت موجودہ تعلیمی نظام سے غیر مطمئن ہے اور اسے دورِ حاضر کے جدید تقاضوں کے بالکل برعکس قرار دیتی ہے۔

سروے کی رپورٹ کے مطابق 60 فیصد پاکستانیوں نے ملک کے تعلیمی نظام پر مکمل عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ موجودہ تعلیمی ڈھانچہ بچوں کی فکری و علمی بالیدگی اور مارکیٹ کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

تعلیمی زوال اور مسائل کی بنیادی وجوہات:

آئی پی او آر (IPOR) کے سروے میں شہریوں نے تعلیمی نظام میں حائل مختلف رکاوٹوں اور مسائل کی نشاندہی کی ہے:

  • تعلیم کی کمرشلائزیشن اور بھاری فیسیں: سروے میں شامل 29 فیصد افراد نے تعلیمی اداروں کی تجارتی پالیسیوں، مہنگی تعلیم اور نجی سکولوں و کالجوں کی من مانی فیسوں کو ملکی تعلیم کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔

  • ناقص معیارِ تعلیم: 19 فیصد شہریوں کا کہنا تھا کہ امتحانی مراکز اور کلاس رومز میں دی جانے والی تعلیم کا معیار انتہائی پست ہے، جو بچوں کو عالمی مسابقت کے لیے تیار نہیں کرتا۔

  • تعلیم تک عدم رسائی: 15 فیصد شرکاء نے نشاندہی کی کہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے معیارِ تعلیم تک رسائی انتہائی مشکل اور طاقت سے باہر ہو چکی ہے۔

  • ناقص امتحانی نظام: 14 فیصد پاکستانیوں نے پرانے، روایتی اور شفافیت سے محروم امتحانی و جائزہ کے نظام کو زوال کی اہم وجہ بتایا۔

  • فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کی کمی: 11 فیصد افراد کے نزدیک پاکستان میں ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن کی عدم موجودگی سے نوجوان ہنر مند بننے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

  • سیاسی مداخلت: 9 فیصد شہریوں نے تعلیمی اداروں میں حد سے زیادہ سیاسی مداخلت، سفارش کلچر اور انتظامی بدنظمی کو تعلیمی بربادی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

تعلیمی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سروے کے نتائج اربابِ اختیار کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہیں، اور حکومت کو تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے نصاب و امتحانی اصلاحات اور فیسوں کے کنٹرول کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔