کراچی میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ: اسکولوں کی طالبات سڑکوں پر نکل آئیں، 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا الزام
کراچی (سپيشل رپورٹر)
شہرِ قائد میں بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف اسکولوں کی طالبات بھی شدید احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں۔ ایف سی ایریا کے سرکاری اسکولوں کی طالبات نے آئی بی سی کے الیکٹرک کے لیاقت آباد آفس کے باہر مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں شریک طالبات نے ہاتھوں میں "بجلی دو” کے پوسٹر اٹھا رکھے تھے اور بجلی کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا۔
اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے زیرِ اہتمام “نیشنل محسنِ انسانیت ﷺ کوئز مقابلہ” کا انعقاد
طالبات نے الزام عائد کیا کہ ایف سی ایریا، پنجاب کالونی اور کرسچن کالونی میں 18 گھنٹے کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ دن میں مختلف اوقات میں صرف 4 گھنٹے بجلی ہوتی ہے، جبکہ رات 10 بجے سے ساڑھے 4 بجے تک بجلی بند رہتی ہے اور پھر صبح ساڑھے 7 بجے دوبارہ بند ہو جاتی ہے۔ طالبات کا کہنا تھا
کہ اس شدید گرمی میں نہ دن میں پڑھائی ہو پا رہی ہے اور نہ رات کو آرام میسر ہے، یہاں تک کہ گھروں اور اسکولوں میں پانی بھی ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کے الیکٹرک حکام سے اپیل کی کہ بل ادا کرنے والوں کو مسلسل بجلی فراہم کی جائے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بند کی جائے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک حکام کا موقف ہے کہ ایف سی ایریا میں بلوں کی ریکوری کی شرح بہت کم ہے۔ حکام نے علاقہ مکینوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ماہانہ بل باقاعدگی سے ادا کریں، کے الیکٹرک ہمہ وقت بجلی کی فراہمی پر یقین رکھتی ہے۔