اسلام آباد (ایجو کیشن رپورٹر)پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان علمی و تعلیمی تعاون کے فروغ کے سلسلے میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان-بنگلہ دیش علمی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت 42 بنگلہ دیشی طلبہ پاکستان پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ معروف پاکستانی جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گے۔
استقبال و رخصتی
بنگلہ دیشی طلبہ کو ڈھاکہ ایئرپورٹ پر بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے الوداع کیا۔انہوں نے طلبہ کو نیک خواہشات کے ساتھ رخصت کیا۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) اور مختلف پاکستانی جامعات کے نمائندوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ طلبہ کو پاکستان میں خوش آمدید کہا گیا اور ان کے تعلیمی سفر کے آغاز پر مبارکباد دی گئی۔
علمی راہداری کا دوسرا مرحلہ
پاکستان-بنگلہ دیش علمی راہداری کا یہ دوسرا مرحلہ ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون، باہمی روابط اور عوامی سطح پر تعلقات کو فروغ دینا ہے۔
کے پی کےمیں لانگ مارچ،موبائل انٹرنیٹ کی بندش،تعلیمی بورڈز کے پرچے ملتوی ہونا شروع
گزشتہ سال اس راہداری کے پہلے مرحلے کے تحت 74 بنگلہ دیشی طلبہ پاکستان آئے تھے۔
رواں سال دوسرے مرحلے کے تحت مجموعی طور پر 150 بنگلہ دیشی طلبہ کو وظائف کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
ان میں سے 42 طلبہ اب تک پاکستان پہنچ چکے ہیں، جبکہ باقی طلبہ بھی جلد پاکستان پہنچیں گے۔
تعلیمی تعاون اور عوامی روابط
پاکستان-بنگلہ دیش علمی راہداری دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تعلیمی میدان میں تعاون کو بڑھانے کے عزم کی عکاس ہے۔
یہ راہداری طلبہ کو ایک دوسرے کے ملک میں تعلیم حاصل کرنے اور ثقافتی تبادلے کا موقع فراہم کرتی ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوامی روابط میں بہتری آئے گی۔
نیک خواہشاتہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ پاکستان میں اپنے تعلیمی سفر کو کامیابی سے مکمل کریں گے۔ ایچ ای سی نے طلبہ کو یقین دلایا ہے کہ وہ پاکستان میں قیام کے دوران خوشگوار اور یادگار تجربات حاصل کریں گے اور انہیں تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
یہ علمی راہداری پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیمی شعبے میں تعاون کو بڑھانے اور دونوں ممالک کے طلبہ کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔ توقع ہے کہ اس راہداری کے ذریعے دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے درمیان شراکت داری کو مزید فروغ ملے گا اور علمی و تحقیقی میدان میں نئے دور کا آغاز ہوگا۔