اہم ترین

پنجاب بھر میں میٹرک کے دوسرے سالانہ امتحانات کا آج سے آغاز

لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب بھر کے تمام تعلیمی بورڈز...

9تعلیمی بورڈز کے اربوں روپے کے فنڈز کی منتقلی کا معاملہ، حکومت کی مجوزہ ترمیمی سمری کی مذمت

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) پنجاب بورڈز ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی...

سوئمنگ پول میں ڈوبنےوالے طالب علم کے ساتھیوں کی جانب سےشفاف تحقیقات کا مطالبہ

لاہور (کرائم رپورٹر) علامہ اقبال میڈیکل کالج  لاہور کے تھرڈ...

 یونیورسٹی لاڑکانہ کے طلبہ کی شجرکاری مہم،  شہر اور گردونواح میں 3000 پودے لگا دیے گئے

لاڑکانہ (ایجو کیشن رپورٹر) شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ...

ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ،ملک کی بڑی یونیورسٹیوں کی تشویش ناک حد تک تنزلی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹائمز ہائر ایجوکیشن (THE) نے عالمی جامعات کی سال 2027ء کی باقاعدہ درجہ بندی جاری کر دی ہے، جس کے نتائج پاکستان میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے دعووں پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ اس درجہ بندی کے مطابق، پاکستان کی کوئی بھی جامعہ دنیا کی بہترین 400 جامعات میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

ملک کی دو قدیم اور سب سے بڑی جامعات، جامعہ کراچی اور جامعہ پنجاب، اس فہرست میں انتہائی مایوس کن پوزیشنوں پر رہیں؛ جامعہ کراچی 1601 جبکہ جامعہ پنجاب 1801 نمبر پر قرار دی گئیں۔

عالمی اور ایشیائی منظر نامہ:

درجہ بندی کے مطابق، برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی مسلسل گیارہویں سال دنیا کی بہترین جامعہ قرار پائی۔ امریکا کا میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ پرنسٹن اور اسٹینفورڈ مشترکہ تیسرے، کیمبرج پانچویں اور ہارورڈ چھٹے نمبر پر رہے۔

کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ساتویں، امپیریل کالج لندن آٹھویں جبکہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے اور ییل مشترکہ نویں نمبر پر رہے۔ ٹاپ ٹین میں امریکا کی سات اور برطانیہ کی تین جامعات نے اپنی بالادستی برقرار رکھی۔

ایشیا کے منظر نامے پر چین اور جاپان نمایاں رہے۔ چین کی سنگھوا یونیورسٹی 11ویں اور پیکنگ یونیورسٹی 13ویں نمبر پر رہی، جبکہ مجموعی طور پر چین کی 17 جامعات ٹاپ 200 میں شامل ہوئیں۔ جاپان کی پانچ جامعات ٹاپ 200 میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئیں، جن میں یونیورسٹی آف ٹوکیو 27ویں نمبر پر رہی۔ ملائیشیا کی یونیورسٹی آف ملایا نے پہلی مرتبہ ٹاپ 200 میں داخل ہو کر مشترکہ 194ویں پوزیشن حاصل کی۔

پاکستانی جامعات کی صورت حال:

اگرچہ پاکستان سے 56 جامعات کو اس درجہ بندی میں باقاعدہ درجہ ضرور ملا، مگر ان کا معیار عالمی سطح پر انتہائی پسماندہ رہا۔ ملک کی بہترین قرار دی جانے والی قائد اعظم یونیورسٹی بھی 551 تا 600 کے گروپ میں شامل ہے، جبکہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) 601 تا 650 کے گروپ میں ہے۔

پاکستانی جامعات کی مکمل درجہ بندی حسب ذیل ہے:

  • 551 تا 600: قائداعظم یونیورسٹی

  • 601 تا 650: نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST)

  • 651 تا 700: کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد

  • 701 تا 800: بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد، یونیورسٹی آف لاہور

  • 1201 تا 1400: کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر، یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور، یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، یونیورسٹی آف سرگودھا، یونیورسٹی آف سوات، بحریہ یونیورسٹی

  • 1401 تا 1600: انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی جامشورو، ایم این ایس یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان، سپیریئر یونیورسٹی

  • 1601 تا 1800: بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی، جامعہ کراچی

  • 1801 تا 2000: خیبر میڈیکل یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی

  • 2001 سے آگے: نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز (NUMS)

تشویش ناک سوالات:

ٹاپ 400 میں کسی بھی پاکستانی جامعہ کا نہ ہونا اور ملک کی سب سے بڑی جامعات کا انتہائی پسماندہ پوزیشنوں پر ہونا اعلیٰ تعلیم کے معیار، تحقیق پر توجہ اور عالمی سطح پر مسابقت کے دعووں کے بارے میں تشویش ناک سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ صورت حال تحقیق، علمی پیداوار اور اعلیٰ تعلیمی پالیسیوں کا سنجیدہ جائزہ لینے کا تقاضا کرتی ہے تاکہ پاکستانی جامعات عالمی معیار پر پورا اتر سکیں۔

 یاد رہے کہ ٹائمز ہائر ایجوکیشن (THE) کی عالمی جامعات کی درجہ بندی دنیا کے معتبر ترین تعلیمی جائزوں میں سے ایک ہے، جو تحقیق، تدریس، اور عالمی ساکھ کی بنیاد پر اداروں کا موازنہ کرتی ہے۔