اہم ترین

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہے,ابرار احمد خان

اسلام آباد / راولپنڈی (پریس ریلیز) آل پاکستان پرائیویٹ...

شانگلہ گرلز سکول کے شاندار نتائج، ملالہ یوسفزئی کی مبارکباد

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی...

اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی، نہم جماعت جنرل گروپ کی مارک شیٹس جاری

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر ) ثانوی تعلیمی بورڈ نے پہلے...

تعلیمی بورڈ فیصل آباد نے فیسوں میں اضافہ کر دیا،تعلیمی حلقوں میں تشویش

فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) فیصل آباد تعلیمی بورڈ نے...

ایڈیشنل ڈائریکٹر ایجو کیشن نجمہ نورین کو پیکٹا رپورٹ کرنے کی ہدایت

  راولپنڈی (ایجو کیشن رپورٹر) ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایڈیشنل ڈائریکٹر...

ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال میں ایم آر آئی کے دوران لڑکی سے مبینہ ہراسانی، ہنگامہ آرائی اور سی ای او پر تشدد، متعدد افراد گرفتار

کراچی (ایجو کیشن رپورٹر)
ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال (اوجھا کیمپس) میں ایم آر آئی اسکین کے دوران ایک  خاتون/لڑکی سے مبینہ ہراسانی کا سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد اسپتال کے احاطے میں شدید ہنگامہ آرائی، لڑائی جھگڑا اور تشدد کا واقعہ پیش آیا۔ مظاہرین اور اہل خانہ کی جانب سے اسپتال انتظامیہ پر حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

واقعے کے تفصیلی حقائق
تفصیلات کے مطابق، پیر اور منگل کی درمیانی شب ایک لڑکی اپنے ایم آر آئی اسکین کے لیے ڈاؤ یونیورسٹی اسپتال اوجھا کیمپس آئی تھی۔ اسکیننگ کے عمل کے دوران لڑکی نے ایم آر آئی ٹیکنیشن پر مبینہ طور پر ہراساں کرنے کا سنگین الزام عائد کیا۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی لڑکی کے اہل خانہ شدید اشتعال میں آ گئے اور انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے تلخ کلامی اور احتجاج شروع کر دیا۔

کلاس روم سے لے کر کائنات تک، سندھ میں بڑے پیمانے پر سکولوں میں STREAM فیسٹیولز کے انعقاد کا فیصلہ

معاملے کو رفع دفع کرنے اور شکایت دہندہ کا موقف سننے کے لیے اسپتال کے چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) بابر خان بذاتِ خود موقع پر پہنچے۔ تاہم، گفتگو کے دوران صورتحال اچانک قابو سے باہر ہو گئی اور مشتعل افراد نے اسپتال کے افسران، دیگر عملے اور سیکیورٹی گارڈز پر حملہ کر دیا اور ہاتھا پائی شروع کر دی۔ اس تشدد کے نتیجے میں ڈاؤ کے سی او او بابر خان شدید زخمی ہو گئے۔

پولیس کی کارروائی اور مقدمہ درج
واقعے اور تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی پولیس کی نفری موقع پر پہنچی۔ سچل تھانے میں اسپتال انتظامیہ کی مدعیت میں سی او او بابر خان اور عملے پر تشدد کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تشدد میں ملوث چند مرکزی ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ٹیکنیشن بھی پولیس حراست میں
دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ لڑکی کی جانب سے عائد کیے گئے مبینہ ہراسانی کے الزام کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے متعلقہ ایم آر آئی ٹیکنیشن کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تفتیش چاہتے ہیں تاکہ سچائی سامنے آ سکے۔
پولیس حکام کے مطابق واقعے کی تمام پہلوؤں سے باریک بینی کے ساتھ تفتیش جاری ہے اور سی سی ٹی وی فٹیج و شواہد کی روشنی میں حتمی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔