پشاور (نمائندہ حصوصی) پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ
نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کوہاٹ کی جانب سے حال ہی میں ایف ایس سی کے امتحان میں 23
امیدواروں کو 6 سال کے لیے نااہل کرنے اور ان کے امتحانات منسوخ کرنے کے خلاف دائر ریٹ پٹیشن پر سماعت کرتے
ہوئے کنٹرولر امتحانات کوہاٹ بورڈ کو 14 اکتوبر کے لیے طلب کر لیا ہے
: کیس کے اہم نکات
درخواست گزاروں کے وکیل ناصر محمود ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکلین نے ایف ایس سی کے امتحانات
میں شرکت کی، جن میں سے بعض کے ای ایم ڈی کیٹ (MDCAT) ٹیسٹ میں 172 نمبرز حاصل کیے اور بعض کے
ایف ایس سی میں 1105 نمبرز بھی آئے ہیں۔ امتحانات کا رزلٹ ڈکلیئر ہونے کے بعد کنٹرولر امتحانات
کی جانب سے ایک خط موصول ہوا جس میں فراڈ کا الزام لگا کر 23 امیدواروں کو 6 سال کے لیے نااہل کر دیا گیا۔
درخواست گزاروں کو نہ تو کوئی نوٹس جاری کیا گیا اور نہ ہی صفائی کا موقع دیا گیا
وکیل نے استدعا کی کہ بورڈ کے مینوئل کے مطابق جب ایک بار باقاعدہ رزلٹ
ڈکلیئر اور نمبرز جاری ہو جائیں تو اسے اس طرح منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا بورڈ کا یہ اقدام غیر قانونی اور
ماورائے آئین ہے
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ 20 اکتوبر میڈیکل کالجز میں داخلے کا آخری دن ہے، اس لیے کیس کا فیصلہ جلد از جلد کیا جائے
عدالت عالیہ نے تمام دلائل سننے کے بعد کنٹرولر امتحانات کوہاٹ بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے