اہم ترین

پنجاب1کروڑ18لاکھ،سندھ70لاکھ اور کےپی کے میں50 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں ۔حافظ نعیم

پشاور(ایجو کیشن رپورٹر)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم...

ملتان کی نجی یونیورسٹی میں فائرنگ، ایک طالب علم جاں بحق، متعدد زخمی

ملتان(ایجو کیشن رپورٹر) ملتان میں قائم ملتان یونیورسٹی آف...

علامہ اقبال میڈیکل کالج ،طالب علم کی موت پر انکوائری رپورٹ مسترد، طلبہ کا احتجاج

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) علامہ اقبال میڈیکل کالج  لاہور...

یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے 20 اساتذہ دنیا کے 2 فیصد زیادہ حوالہ دیے جانے والے سائنسدانوں میں شامل

لاہور (ایجو کیشن رپورٹر) یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور نے تحقیقی و علمی میدان میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کر لیا۔ یونیورسٹی کے 20 اساتذہ کے نام دنیا کے 2 فیصد ممتاز سائنسدانوں کے عالمی ڈیٹا بیس میں شامل کیے گئے ہیں، جو ان کی تحقیقی خدمات اور علمی اثرات کا اعتراف ہے۔

یہ فہرست اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ محققین کی مرتب کردہ Updated Science-Wide Author Databases of Standardized Citation Indicators پر مبنی ہے، جسے عالمی تحقیقی ادارے ایلسویئر (Elsevier) کے ڈیٹا ریپوزٹری میں شائع کیا گیا ہے۔

اس ڈیٹا بیس میں محققین کی علمی خدمات کا جائزہ معیاری حوالہ جاتی اشاریوں کی بنیاد پر لیا جاتا ہے، جن میں تحقیقی مقالات کے حوالہ جات اور تصنیفی کردار سمیت مختلف عوامل شامل ہیں۔

 غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس کی ہاؤس جاب اور ٹریننگ طریقہ کار جائزہ کے لیے 8 رکنی کمیٹی تشکیل

عالمی سطح پر یہ اعزاز حاصل کرنے والے یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کے اساتذہ میں ڈاکٹر سمیرا افشین، ڈاکٹر محمد حسن احمد، ڈاکٹر ایم احمد، ڈاکٹر نوید احمد، ڈاکٹر محمد سعید اختر، ڈاکٹر محمد عمران اسد، ڈاکٹر عمیر اشرف، ڈاکٹر محمد آصف، ڈاکٹر فہیم کے بٹ، ڈاکٹر عابد حسانان، ڈاکٹر نور سعید خان، ڈاکٹر غلام ایم مصطفیٰ، ڈاکٹر محمد آصف نوید، ڈاکٹر سمیرا ناز، ڈاکٹر محمد فیضان نذر، ڈاکٹر ارشد ریاض، ڈاکٹر محمد ایس سلیم، ڈاکٹر انیس علی شاہ، ڈاکٹر ثنا اللہ اور ڈاکٹر زکا اللہ شامل ہیں۔

اس کامیابی پر اساتذہ کو مبارک باد دیتے ہوئے وائس چانسلر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور، پروفیسر ڈاکٹر عاقف انور چوہدری نے اسے یونیورسٹی میں اطلاقی تحقیق، جدت اور علمی و تحقیقی معیار کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔

انہوں نے اساتذہ کی علمی لگن، تحقیقی کاوشوں اور سائنسی و علمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیاری اور بامقصد تحقیق نہ صرف علم کے فروغ بلکہ معاشرتی مسائل کے حل اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی عالمی شناخت مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

علامہ اقبال میڈیکل کالج ،طالب علم کی موت پر انکوائری رپورٹ مسترد، طلبہ کا احتجاج

وائس چانسلر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی میں تحقیق پر مبنی تعلیمی ماحول کو مزید مستحکم کیا جائے گا، معیاری تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، صنعت اور جامعات کے مابین روابط کو فروغ دیا جائے گا اور تحقیقی نتائج کو عملی اور معاشرتی فوائد میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دفتر برائے تحقیق، جدت اور تجارتی تشکیل کے ذریعے تحقیقی نظام کو مضبوط بنانے، اساتذہ کی استعدادِ کار میں اضافے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اختراعات اور تحقیقی نتائج کو قابلِ عمل مصنوعات اور خدمات میں ڈھالنے کے مواقع بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

یہ کامیابی یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور کی جانب سے تحقیقی معیار میں بہتری، علمی اشتراک کے فروغ اور قومی و بین الاقوامی سطح پر سائنس و علم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے عزم کی عکاس ہے