اسلام آباد (کرائم رپورٹر) امریکی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب دیکھنے والی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی لاش تھانہ رمنا کے علاقے میں سڑک کے قریب درخت سے لٹکی ہوئی ملی ہےاہلِ خانہ کے مطابق مبینہ ایجنٹ کے فراڈ کے باعث ان کے خاندان کو تقریباً 70 لاکھ روپے کا بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ لائبہ کے دودھ فروش والد نے اپنی بیٹی کی اعلیٰ تعلیم کی خاطر پلاٹ اور زیورات فروخت کر کے رقم ایجنٹ کے حوالے کی تھی
پوسٹ مارٹم اور پولیس تحقیقات ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق جمعہ کے روز اطلاع ملنے پر پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر پمز ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ واقعہ خودکشی معلوم ہوتا ہے، تاہم موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ اور تفتیش کے بعد ہی سامنے آئے گی
بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی اساتذہ کا جھگڑا، سکیورٹی آفیسر کے خلاف مقدمہ درج، گرفتاری نہ ہو سکی
اہلِ خانہ کا موقف پمز ہسپتال کے مردہ خانے کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لائبہ کے ماموں رانا امجد نے بتایا کہ ان کی بھانجی انتہائی ذہین طالبہ تھی، جس نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے بی ایس میں گولڈ میڈل حاصل کیا تھا اور وہ مزید تعلیم کے لیے امریکہ جانا چاہتی تھی
وں نے بتایا کہ لائبہ کے والد گزشتہ 30 سال سے موٹر سائیکل پر دودھ سپلائی کا کام کرتے ہیں اور اسلام آباد میں کرائے کے فلیٹ میں رہائش پذیر ہیں
۔ ایک شخص نے لائبہ کو امریکی یونیورسٹی میں داخلہ دلوانے کا وعدہ کیا۔ بیٹے کی مخالفت کے باوجود والد نے نجی سوسائٹی میں اپنا پلاٹ فروخت کر کے 21 لاکھ روپے ایجنٹ کو دیے۔ بعد ازاں ایجنٹ نے بینک اسٹیٹمنٹ کے لیے مزید رقم کا مطالبہ کیا،
جس پر لائبہ کی والدہ کے زیورات بھی ایجنٹ کے حوالے کر دیے گئے۔ تاہم، ایجنٹ نے مبینہ طور پر زیورات اپنے اکاؤنٹ میں رکھوا کر بینک کی جعلی رسید فراہم کر دیپ پولیس کی جانب سے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے