اہم ترین

 ایم ڈی کیٹ امیدواروں سے سوالیہ پیپرز واپس نہیں لئے جا سکتے، لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے ایم ڈی...

 ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر شہنشاہ بابر چیف ایگزیکٹو آفیسر سیالکوٹ تعینات

راولپنڈی (نامہ نگار خصوصی)ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر راولپنڈی شہنشاہ بابر...

 اسلام آباد، روسی زبان کورس کی تقریب تقسیم اسنادمیں پاک،روس روابط مضبوط بنانے پر زور

اسلام آباد (ایجوکیشن رپورٹر) علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے...

  کم تنخواہ، سرکاری جامعات میں تجربہ کار اساتذہ کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا، وائس چانسلرز کا اجلاس میں شکوہ

کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت صوبے کی تمام سرکاری جامعات

کے وائس چانسلرز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں جامعات کی مجموعی کارکردگی، مالی و انتظامی مسائل،

تعلیمی معیار، تحقیق، انفراسٹرکچر اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں

صوبے کی 32 سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز، چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ

بورڈز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران جامعات کو درپیش مالی مشکلات، فیکلٹی اور انسانی وسائل کے مسائل، کیمپس انفراسٹرکچر اور

ترقیاتی منصوبوں، گورننس اور انتظامی امور، طلبہ کی فلاح و بہبود، اسکالرشپس، ٹرانسپورٹ اور رہائش،

ڈیجیٹلائزیشن، بجلی کے اخراجات، پنشن اور تنخواہوں کے واجبات سمیت کیمپس کے تمام اہم اُمور کا تفصیلی جائزہ لیا

گیا۔ اجلاس میں وائس چانسلرز نے اپنی جامعات کو درپیش مسائل، ضروریات اور ترجیحات سے چیف سیکریٹری کو آگاہ

کیا اور تعلیمی معیار، تحقیق، انفراسٹرکچر اور طلبہ کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔

چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کو سرکاری جامعات کو درپیش مسائل کا بخوبی اندازہ ہے

اور حکومت وائس چانسلرز کے ساتھ مل کر ان مسائل کے عملی حل کے لیے اقدامات کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ

رواں مالیاتی سال کے دوران حکومتِ سندھ کی جانب سے صوبے کی جامعات کو 44,460 ملین روپے کی گرانٹ

فراہم کی جا رہی ہے، تاہم جامعات کے لیے پنشن اور واجبات ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے مالی بوجھ کم

خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کا بجٹ آٹے میں نمک کے برابر، ‘فپواسا’ کی شدید تنقید

کرنے کے لیے غیر ضروری بھرتیوں، بالخصوص نان فیکلٹی شعبوں میں بھرتیوں کی حوصلہ شکنی پر زور دیا اور کہا

کہ جامعات کے سینڈیکی کیسز سے متعلق سفارشات صوبائی کابینہ میں پیش کی جائیں گی۔

اجلاس میں مزید طے پایا کہ یونیورسٹی سینڈیکی کیسز میں تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے سے وابستہ افراد کو

شامل کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔ جامعات تحقیق پر توجہ دے رہی ہیں، تاہم یونیورسٹیوں کی تحقیق کو مناسب

طور پر ایکریڈیٹ کرنے اور اسے صنعت سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے۔ جامعات سے متعلق وفاقی حکومت کے دائرہ

اختیار کے مسائل کے حل کے لیے وفاقی حکومت کو بھی تحریر کیا جائے گا۔

وائس چانسلرز کی جانب سے پیشکش کی گئی کہ یونیورسٹی پروفیسرز کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا کر

65 سال کرنے کی سمری صوبائی کابینہ کو بھیجی جائے، جبکہ وائس چانسلرز نے یہ بھی بتایا کہ نجی جامعات کی

جانب سے زیادہ تنخواہوں کی پیشکش کے باعث سرکاری جامعات کے اچھے اور تجربہ کار اساتذہ کو برقرار رکھنا مشکل

ہو رہا ہے۔ جامعات اپنے کیمپسز میں امن وامان برقرار رکھنے اور منشیات کے استعمال کی روک تھام کے لیے بھی

اقدامات کر رہی ہیں۔ چیف سیکریٹری نے کہا کہ جامعات کو درپیش مسائل کے حل کے لیے صوبائی حکومت،

یونیورسٹی انتظامیہ اور متعلقہ وفاقی اداروں کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت

وائس چانسلرز کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔