اہم ترین

پروفیسر ڈاکٹر روبینہ بھٹی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی پرو وائس چانسلر تعینات

لاہور (سپیشل رپورٹر)حکومت پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی...

آئی ٹی یو کے زیرِ اہتمام خوراک کے ضیاع اور نقصان میں کمی کے حوالے سے کانفرنس کا انعقاد

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی (آئی ٹی یو) پنجاب...

عالمی سطح پر اعتراف، جی سی یو کے عبدالسلام سکول نے بین الاقوامی اعزاز اپنے نام کر لیا

لاہور(ایجو کیشن رپورٹر)یورپی میتھمیٹیکل سوسائٹی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی...

سبین کے وفد کا مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا دورہ

کوٹری (نمائندہ حصوصی) سپین کی بین الاقوامی کمپنی ایڈبیون...

 پنجاب یونیورسٹی, شعبہ جینڈر سٹڈیز کے زیر اہتمام صنفی تشدد پر سیمینار

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر سٹڈیز...

کابینہ کا اہم فیصلہ, پبلک سروس کمیشن کے امتحانات کے لیے عمر کی حد اور مواقع میں اضافہ

کراچی (سپیشل رپورٹر)

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوامی صحت، ادارہ جاتی اصلاحات، محصولات میں اضافے اور سیلاب متاثرین کی بحالی سے متعلق متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔

سندھ پبلک سروس کمیشن میں بڑی اصلاحات

امیدواروں کے شدید تحفظات اور مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے امتحانی نظام اور بھرتیوں کے طریقہ کار میں نمایاں مراعات کی منظوری دی ہے:

عمر کی بالائی حد: کمبائنڈ کمیپٹیٹو ایگزامینیشن (CCE) کے لیے عمر کی بالائی حد 30 سال سے بڑھا کر 33 سال کر دی گئی ہے۔

امتحانی مواقع: سی سی ای امتحان میں شرکت کے لیے مجاز مواقع (Attempts) کی تعداد 3 سے بڑھا کر 5 کر دی گئی ہے۔

بارانی زرعی یونیورسٹی اورمالدیپ نیشنل یونیورسٹی کے درمیاں مفاہمتی یادداشت پر دستخط

پاسنگ مارکس میں کمی: CCE 2026 کے اسکریننگ ٹیسٹ میں کامیابی کے لیے پاسنگ مارکس 40 فیصد سے کم کر کے 33 فیصد کر دیے گئے ہیں۔

کمپیوٹر بیسڈ ٹیسٹنگ: ایک پرچے پر مشتمل امتحانات کے لیے کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ (CBT) متعارف کرایا جائے گا اور امتحان کے فوراً بعد نتائج پرنٹ کر کے دیے جائیں گے۔

انٹرویو کے نمبرز: انٹرویو کے نمبروں کو وفاقی پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے تناسب کے مطابق نظرثانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

جوڈیشل انکوائری رپورٹ عام کرنے کا فیصلہ

اجلاس میں کابینہ نے میر رضا کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ کو عام کرنے کی منظوری دی اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔