حیدرآباد (ایجو کیشن رپورٹر) اینٹی کرپشن حیدرآباد نے سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں پینشن فنڈز میں کرپشن کے ایک بڑے اسکینڈل کا پردہ چاک کرتے ہوئے یونیورسٹی کے چیف اکاؤنٹنٹ کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم پر یونیورسٹی ملازمین کی پینشن کی مد میں 7 کروڑ روپے سے زائد رقم کا غبن کرنے، دھوکہ دہی، اور فراڈ کے ذریعے رقم غیر قانونی طور پر منتقل کرنے کا سنگین الزام ہے
پشاور, پروفیسر ڈاکٹر طاہر عثمان ویٹرنری کالج کے پرنسپل تعینات
تفصیلات کے مطابق، زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے رجسٹرار نے یونیورسٹی اکاؤنٹس سے پینشن کی مد میں غیر قانونی ادائیگیوں اور کرپشن کی باقاعدہ شکایت اینٹی کرپشن کو درج کرائی تھی۔ اس کے بعد یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی کے چیئرمین نے ٹھوس دستاویزی شواہد اینٹی کرپشن کے حوالے کیے
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے انکوائری کی تو چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے۔ انکوائری کے دوران، 7 کروڑ 14 لاکھ روپے سے زائد کی کرپشن کے شواہد ملے۔ ملزم نے اس بڑی رقم کو پہلے 25 نشان دہی کردہ مختلف اکاؤنٹس میں منتقل کیا اور پھر وہاں سے دھوکہ دہی کے ذریعے اسے اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کر لیا
ملک کی 33فیصدآبادی دماغی امراض میں مبتلا ہے ۔ڈاکٹر اخونزادہ واجد
اینٹی کرپشن نے ٹھوس شواہد ملنے پر کارروائی کرتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن حیدرآباد، محمد نواز پنہور کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔ مقدمہ پریونشن آف کرپشن ایکٹ کی دفعہ 5(2)، تعزیرات پاکستان دفعات 420، 467، 468، 477، 471 اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے
اینٹی کرپشن کے حکام نے زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں چھاپہ مار کر چیف اکاؤنٹنٹ، فراز اشرف شیخ کو گرفتار کر لیا۔ مقدمے میں ملزم کے علاوہ جونیئر کلرک وقاص بھٹی کا نام بھی شامل ہے۔ اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور دیگر ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔