کراچی (ایجوکیشن رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کو پینشنری واجبات کی طویل عرصے سے عدم ادائیگی پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو اکاؤنٹس اور بجٹ کے مکمل ریکارڈ کے ساتھ ذاتی طور پر طلب کر لیا ہے۔
عدالت عالیہ میں ریٹائرڈ اساتذہ اور ملازمین کی جانب سے واجبات کی ادائیگی کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزاروں کے وکیل، محمود عالم رضوی ایڈووکیٹ، نے موقف اختیار کیا کہ ملازمین کو طویل عرصے سے پینشن، کمیوٹیشن، لیو انکیشمنٹ، اور جی پی فنڈز جیسے جائز واجبات ادا نہیں کیے جا رہے، جس سے وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
دوسری جانب، وفاقی اردو یونیورسٹی کی انتظامیہ نے فنڈز کی کمی کا عذر پیش کیا اور کہا کہ پینشنری واجبات کی ادائیگی کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ خط و کتابت کا ریکارڈ موجود ہے۔ تاہم، درخواست گزار نے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ یونیورسٹی کے پاس جی پی فنڈ اور پینشن کی مد میں اربوں روپے موجود ہیں جو بینکوں میں سرمایہ کاری کی صورت میں پڑے ہیں اور یونیورسٹی ان فنڈز سے منافع کما رہی ہے، لیکن ملازمین کو ان کا جائز حق دینے سے گریز کر رہی ہے۔
عدالت نے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ عذر پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ملازمین کے کنٹری بیوشن کی مد میں رقم موجود ہونے کے باوجود واجبات کی ادائیگی نہ کرنا ناانصافی ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ پنشنری فوائد ملازمین کا قانونی حق ہے اور عدالتی حکم کی عدم تعمیل کو توہین عدالت تصور کیا جائے گا۔
سندھ ہائی کورٹ نے یونیورسٹی انتظامیہ کو خبردار کیا کہ ملازمین کے جائز حقوق کی ادائیگی میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے وائس چانسلر کو اکاؤنٹس اور بجٹ ریکارڈ کے ساتھ آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے سماعت 6 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔