کراچی(ایجوکیشن رپورٹر) سندھ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور ریاضی (اسٹیم) کی تعلیم کو فروغ
دینے کے لیے تعلیمی ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے مخصوص بجٹ مختص کرنے اور پالیسی بنانے کا مطالبہ کرتے
ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ سائنسی سرگرمیوں کو سالانہ سائنس فیسٹیولز تک محدود رکھنے کے بجائے سکولوں کے
روزمرہ تدریسی عمل کا مستقل حصہ بنایا جائے۔ یہ مطالبہ محکمہ سکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ کے ریفارم
سپورٹ یونٹ اور تھر ایجوکیشن الائنس کے مشترکہ اہتمام منعقدہ "اسٹیم پالیسی ڈائیلاگ” کے دوران سامنے آیا، جس
میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام، اساتذہ، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور سائنس کے شعبے سے وابستہ اداروں کے نمائندوں نے
شرکت کی۔
پنجاب کے تعلیمی اداروں کو 48 گھنٹوں میں بنیادی سہولیات اور طلباء کی تصدیق کا حکم
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری تعلیم سندھ زاہد علی عباسی نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے
تعلیمی مواقع میں مزید وسعت لائی جا سکتی ہے، اور اعلان کیا کہ محکمہ تعلیم سندھ کے سکولوں میں 8 ہزار
500 سائنس اساتذہ کی بھرتی کر کے ان کی تعلیمی اداروں میں تعیناتیوں کو یقینی بنا رہا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد
سائنس فیسٹیول میں سندھ کے طلبہ کی شاندار شرکت اور صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے اسٹیم سرگرمیوں کے فروغ کے
لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب میں چیف ایگزیکٹو آفیسر تھر ایجوکیشن الائنس پرتاب شیوانی، چیف
پروگرام مینیجر ریفارم سپورٹ یونٹ جنید سموں، یونیسیف کی نمائندہ عبیر مقبول اور فرہاد جرال نے بھی خطاب کیا۔
اس موقع پر اسلام آباد سائنس فیسٹیول میں سندھ کی نمائندگی کرنے والے طلبہ نے اپنے تیار کردہ سائنسی ماڈلز
پیش کیے، جنہیں ماہرین نے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں، سائنسی سوچ اور عملی مسائل کے حل کی بہترین عکاسی
قرار دیا۔