موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہائبرڈ چاول کی نئی اقسام پر تحقیق ہوگی؛ زرعی شعبے اور غذائی تحفظ کے لیے اہم پیش رفت
لاہور (ایجو کیشن رپورٹر)
پنجاب یونیورسٹی نے زرعی تحقیق اور جدت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے چین کی ووہان یونیورسٹی کے ساتھ فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز کے شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس میں ’ہائبرڈ رائس ریسرچ سینٹر‘ کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔
اس تاریخی معاہدے کا بنیادی مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے والی ہائبرڈ چاول کی نئی اور اعلیٰ اقسام کی تحقیق، بہتری اور ترقی ہے۔ یہ اقدام پاکستان اور چین کے درمیان سائنسی و تعلیمی تعاون میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
تقریبِ دستخط اور اعلیٰ حکام کی شرکت
پاکستان کی جانب سے اس منصوبے کی قیادت وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کی، جبکہ تقریب میں ڈی ن فیکلٹی آف ایگریکلچرل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر تہمینہ انجم، پراجیکٹ ڈائریکٹر اور چیئرمین شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق، ریسرچ سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر محمد علی کلاسرا اور ڈائریکٹر ایکسٹرنل لنکیجز پروفیسر ڈاکٹر یامینہ سلمان بھی شریک ہوئے۔
چین کی جانب سے ووہان یونیورسٹی کے صدر پروفیسر یوآن یوفینگ، منصوبے کے ڈائریکٹر پروفیسر رینشان ژو، سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر شیان ٹنگ وو اور مسٹر شو نے اس اشتراک کو ممکن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ریسرچ سینٹر کے مقاصد اور فوائد
مشترکہ ‘ہائبرڈ رائس ریسرچ سینٹر’ کے قیام کے اہم مقاصد میں شامل ہیں:
- ہائبرڈ چاول کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور سخت موسمی حالات کے خلاف اس کی مزاحمت کو بہتر بنانا۔
- دونوں جامعات کے درمیان اساتذہ اور طلبہ کے تبادلوں کے پروگرام کو فروغ دینا۔
- چاول کی فصل کی دیکھ بھال اور کاشت سے متعلق جدید ترین ٹیکنالوجی کا تبادلہ۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت ٹیکنالوجی کی اس منتقلی سے ملک میں غذائی قلت پر قابو پانے، صحت اور غذائیت کا معیار بہتر بنانے، تعلیمی و تحقیقی مواقع میں اضافے اور زراعت میں پانی و توانائی کے پائیدار استعمال کو فروغ دینے میں بڑی مدد ملے گی۔
وائس چانسلر کا بیان
اس موقع پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے اس تعاون کو پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے میں نمایاں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جامعات کو محض تعلیم تک محدود رہنے کے بجائے قومی، صنعتی اور معاشی ترقی میں اپنا فعال اور بنیادی کردار ادا کرنا چاہیے۔

