اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

اردو یونیورسٹی میں مالی بحران، ہراسانی اور اقدامِ قتل کی ایف آئی آر،وی سی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اعلیٰ تعلیم نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر  ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کو عہدے سے ہٹانے کی تجویز پر متفق ہوتے ہوئے سفارشات چانسلر و صدرِ مملکت کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

علی جان کو سیکرٹری سکولز ایجو کیشن پنجاب تعینات کر دیا گیا

وفاقی اردو یونیورسٹی کے انتظامی و مالیاتی بحران اور اساتذہ کو درپیش شدید مسائل کا جائزہ لینے کے لیے سینیٹ آف پاکستان کی قائمہ کمیٹی برائے اعلیٰ تعلیم کا اجلاس کنوینر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت قومی اسمبلی بلڈنگ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹرز مسرور احسن، جان محمد بلیدی، خالدہ عتیب اور فلک ناز سمیت چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد، ڈائریکٹر فنانس ایچ ای سی، وزارتِ وفاقی تعلیم کے نمائندوں اور وائس چانسلر اردو یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے شرکت کی۔

سندھ پبلک سروس کمیشن کا سی سی ای 2026 کا اسکریننگ ٹیسٹ ملتوی

سنگین الزامات اور تشویش کا اظہار
اجلاس کے دوران وائس چانسلر پر نامکمل کورم کے ساتھ سنڈیکیٹ کا اجلاس بلانے، اساتذہ کی تنخواہیں روکنے اور انہیں ہراساں کرنے جیسے سنگین الزامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ سینیٹرز نے خواتین اساتذہ کو ہراساں کرنے، پنشن کی عدم ادائیگی، 20 فیصد ہاؤس سیلنگ کٹوتی اور اقدامِ قتل کی ایف آئی آر درج ہونے جیسے معاملات پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا۔

نوازشریف زرعی یونیورسٹی میں سائبر بائیو سیکیورٹی تربیتی پروگرام کا اختتام، وائس چانسلر نے اسناد تقسیم کیں

وی سی کو ہٹانے کی تجویز
معاملات کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے سینیٹر جان محمد بلیدی نے وائس چانسلر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی تجویز پیش کی۔ قائمہ کمیٹی نے اس تجویز پر مکمل اتفاق کرتے ہوئے تمام سفارشات حتمی منظوری کے لیے چانسلر اور صدرِ مملکت کو ارسال کرنے کا متفقہ فیصلہ کر لیا۔