ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر بمباری ‘خوفناک وحشت’ اور جنگی جرم ہے، اقوام متحدہ
نیویارک/جنیوا (مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سربراہ وولکر ترک نے ایران میں لڑکیوں کے اسکول پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے
اسے “خوفناک وحشت” اور “جنگی جرم” قرار دے دیا ہے۔ انسانی حقوق کونسل سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ 28 فروری کو مناب میں واقع ‘شجرہ طیبہ ایلمنٹری اسکول’ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 170 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اکثریت معصوم طالبات کی تھی۔
وولکر ترک نے اس ہولناک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اسکول پر بمباری نے پورے علاقے میں خوف و ہراس اور وحشت کی لہر پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے اس حملے کا ذمہ دار امریکہ اور اسرائیل کو قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں اور طالبات کو نشانہ بنانا
بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اس وحشت ناک واقعے کا نوٹس لیا جائے اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا جائے تاکہ مستقبل میں تعلیمی اداروں کے تقدس اور بچوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

