ملتان (ایجوکیشن رپورٹر)
ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں جاری نئے نوٹیفکیشن کے باعث وائس چانسلر اور مرد و خواتین اساتذہ کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈپٹی رجسٹرار کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شعبہ کمپیوٹنگ میں ‘غیر قانونی’ اجلاس منعقد ہوا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح ہدایت کی گئی ہے کہ آئندہ بغیر پیشگی منظوری کے کسی بھی قسم کے اجلاس کے انعقاد اور ایجنڈے پر مکمل پابندی ہوگی، بصورتِ دیگر شعبہ سربراہ کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس حوالے سے یونیورسٹی کے بعض حلقوں، قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 16 تمام شہریوں کو پرامن اجتماع اور باہمی مشاورت کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ کسی بھی فرضی وجہ کو ڈھال بنا کر اساتذہ کی باہمی گفتگو اور مشاورت پر قدغن لگانا عملاً تعلیمی ادارے میں "دفعہ 144” نافذ کرنے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب اساتذہ کا کہنا ہے کہ شعبے میں ایسی کوئی میٹنگ سرے سے ہوئی ہی نہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ انتظامیہ نا تجربہ کاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محض اساتذہ (بشمول خواتین اساتذہ) کو ہراساں کرنے اور ان کی تعلیمی و باہمی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
علاوہ ازیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر نے ایمرسن یونیورسٹی ایلومنائی (Alumni) کے نمائندوں کو بلا کر گلہ و شکوہ کیا ہے کہ اساتذہ ان کے خلاف ہیں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون نہیں کر رہے، جس سے یونیورسٹی کے اندرونی معاملات مزید اختلافات کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
عمر کی حد 30 سال اور مواقع کی تعداد 3 ہی رہے گی؛ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن…
لاہور ( سپیشل رپورٹر) پنجاب بھر کے 9 تعلیمی بورڈز کے زیرِ اہتمام نویں کلاس کے…
کوئٹہ ( سپیشل رپورٹر) صوبائی وزیرِ داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ بلوچستان…
کراچی (سٹاف رپورٹر) شکارپور میں خاتون استاد سے فون پر گفتگو کے دوران غیر مناسب رویے…
بنوں (نامہ نگار) بنوں یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی ٹیچنگ اسٹاف ایسوسی ایشن نے وائس…
کراچی ( سپیشل رپورٹر) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے پاکستان میری ٹائم سائنس…