لاہور (خصوصی رپورٹر) صوبے کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کی مارکنگ کس قدر ناقص اور غیر ذمہ دارانہ ہے اس کا اندازہ حالیہ دنوں میں پے در پے دو واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے گزشتہ دنوں گورنمنٹ گریجویٹ کالج شالا مار کے مارکنگ سنٹر میں ایک طالب علم کی جانب سے پیپر
مارکنگ کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ
ایک پیپر ایگزامینر کیساتھ ایک طالب علم پیپر چیک کر رہا ہے اس سے قبل گوجرانوالہ ،فیصل اباد اور ڈی جی خان کے تعلیمی بورڈز سے بھی اس طرح کی ویڈیوز منظر عام پر آچکی ہیں لیکن مجال ہے جو کسی اعلی عیدیدار نے اس پر نوٹس لیا اسی غیر ذمہ دارآنہ رویے کے باعث
تعلیمی بورڈ لاہور کی ایک ہونہار طالبہ کو اسکی اصل پوزیشن سے محروم کیا گیا جس کا تعلق ماڈل ٹاؤن کے نجی تعلیمی ادارے سے ہے طالبہ عافیہ نعیم کے امتحانی پرچے میں بورڈ کے عملے کی جانب سے 2 نمبر اسکے مجموعی نمبروں میں شامل نہ کیے گئے جس کے باعث طالبہ کو پوزیشن سے محروم کر دیا گیا۔
طالبہ کو پوزیشن سے محروم کر کے ابتدائی نتائج کے اعلان پر عافیہ نعیم کو 1187 نمبر دیے گئے تھے، جبکہ وہ
حقیقت میں اس سے زائد نمبروں کی حقدار تھیں۔ یاد رہے کہ تعلیمی بورڈ لاہور کی انتظامیہ کے مطابق پیپر کئی بار
چیک ہوتے ہیں خاص کر ایسے طالب علم جن کے نمبر پوزیشن کے قریب قریب ہوتے ہیں انکے پیپرز کی بار بار ری چیکنگ کی جاتی ہے لیکن نااہلی ،لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کی یہ اعلی مثال ہے
ایک ہونہار طالبہ کو پوزیشن سے محروم کر دیا جائے بورڈ انتظامیہ کی اس نااہلی اور پرچوں کی جانچ میں عدم توجہی کے خلاف جب طالبہ نے باقاعدہ ری چیکنگ کی درخواست دی اور فیس ادا کر کے نشاندہی کی، تب جا کر بورڈ حکام نے ری چیکنگ میں غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے طالبہ کے پرچے میں 2 نمبروں کا اضافہ کیا، جس سے ان کے مجموعی نمبر 1187 سے بڑھ کر 1189 ہو گئے اور وہ لاہور بورڈ میں میٹرک کے امتحانات میں تیسری پوزیشن پر فائز ہو گئیں۔
اس واقعے نے لاہور بورڈ کے مارکنگ سسٹم کی شفافیت اور معیار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تعلیم سے
وابستہ حلقوں اور والدین کا کہنا ہے کہ
بورڈ عملے کی معمولی سی غفلت بچوں کے مستقبل اور سالوں کی محنت کو داؤ پر لگا دیتی ہے۔ اگر طالبہ ری چیکنگ نہ کرواتی تو بورڈ کی اس خطا کا خمیازہ اسے عمر بھر بھگتنا پڑتا۔
غریب اور اوسط درجے کے طلبہ کے لیے بورڈ کی ری چیکنگ فیسیں ادا کرنا آسان نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے کئی
حقدار طلبہ اپنے نمبروں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
پرچوں کی ناقص چیکنگ کرنے والے ممتحنین (Examiners) کے خلاف سخت انتظامی اور ڈسپلنری کارروائی کے بغیر یہ سلسلہ نہیں رک سکتا۔طلبا وطالبات اور والدین نے وزیر اعلی صوبائی وزیر تعلیم اور چیف سیکرٹری سے بورڈ حاکم کی نااہلی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے
لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب میں پانچویں اور آٹھویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے لیے 21 لاکھ…
پشاور (نامہ نگار) پشاور کے 45 نجی سکولوں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان…
پشاور (کورٹ رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میانخیل پر مشتمل…
پشاور (نامہ نگار) وفاقی محتسب خیبر پختونخوا کے حکم پر اسلامیہ کالج پشاور کے وائس چانسلر…
پشاور (سپیشل رپورٹر) پشاور یونیورسٹی میں دو فریقین کے مابین شدید ہنگامہ آرائی، جھگڑے اور…
وانا (نامہ نگار) جنوبی وزیرستان لوئر کے متعدد علاقوں میں مسلح افراد کی جانب سے…