تعلیمی بورڈ لاہور پوزیشن سے محروم کی گئی طالبہ پیپر ری چیکنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب،

لاہور (خصوصی رپورٹر) صوبے کے سب سے بڑے تعلیمی بورڈ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن  لاہور کی مارکنگ کس قدر ناقص اور غیر ذمہ دارانہ  ہے  اس کا اندازہ حالیہ دنوں میں  پے در پے دو واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے  گزشتہ دنوں  گورنمنٹ گریجویٹ کالج شالا مار  کے مارکنگ سنٹر میں  ایک طالب علم کی جانب سے پیپر

مارکنگ کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ
ایک پیپر ایگزامینر کیساتھ ایک طالب علم  پیپر چیک کر رہا ہے اس سے قبل گوجرانوالہ ،فیصل اباد اور ڈی جی خان کے تعلیمی بورڈز سے بھی اس طرح کی ویڈیوز منظر عام پر آچکی ہیں لیکن مجال ہے جو کسی اعلی عیدیدار نے اس پر نوٹس لیا  اسی غیر ذمہ دارآنہ رویے کے باعث

  تعلیمی بورڈ لاہور کی ایک ہونہار طالبہ کو  اسکی اصل پوزیشن سے محروم  کیا گیا جس کا تعلق  ماڈل ٹاؤن کے نجی تعلیمی ادارے  سے ہے طالبہ عافیہ نعیم کے امتحانی پرچے میں بورڈ  کے عملے کی جانب سے 2 نمبر  اسکے مجموعی نمبروں میں شامل نہ کیے گئے جس کے باعث طالبہ کو پوزیشن سے محروم کر دیا گیا۔

طالبہ کو پوزیشن سے محروم کر کے ابتدائی نتائج کے اعلان پر عافیہ نعیم کو 1187 نمبر دیے گئے تھے، جبکہ وہ

پنجاب یونیورسٹی, ہٹرتالی اساتذہ کو لیڈ کرنے والےسردار اصغر اقبال کی تعیناتی متنازع، تھرڈ ڈویژن کے باوجود پروفیسر بننے کا انکشاف

حقیقت میں اس سے زائد نمبروں کی حقدار تھیں۔ یاد رہے کہ تعلیمی بورڈ لاہور کی انتظامیہ کے مطابق پیپر کئی بار

چیک ہوتے ہیں خاص کر ایسے طالب علم جن کے نمبر پوزیشن کے قریب قریب ہوتے ہیں انکے پیپرز کی بار بار ری چیکنگ کی جاتی ہے لیکن نااہلی ،لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کی یہ اعلی مثال ہے

ایک ہونہار طالبہ کو پوزیشن سے محروم کر دیا جائے بورڈ انتظامیہ کی اس نااہلی اور پرچوں کی جانچ میں عدم توجہی کے خلاف جب طالبہ نے باقاعدہ ری چیکنگ کی درخواست دی اور  فیس ادا کر کے نشاندہی کی، تب جا کر بورڈ حکام نے ری چیکنگ  میں غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے  طالبہ کے پرچے میں 2 نمبروں کا اضافہ کیا، جس سے ان کے مجموعی نمبر 1187 سے بڑھ کر 1189 ہو گئے اور وہ لاہور بورڈ میں میٹرک کے امتحانات میں تیسری پوزیشن پر فائز ہو گئیں۔
اس واقعے نے لاہور بورڈ کے مارکنگ سسٹم کی شفافیت اور معیار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تعلیم سے

وابستہ حلقوں اور والدین کا کہنا ہے کہ
بورڈ عملے کی معمولی سی غفلت بچوں کے مستقبل اور سالوں کی محنت کو داؤ پر لگا دیتی ہے۔ اگر طالبہ ری چیکنگ نہ کرواتی تو بورڈ کی اس خطا کا خمیازہ اسے عمر بھر بھگتنا پڑتا۔
غریب اور اوسط درجے کے طلبہ کے لیے بورڈ کی ری چیکنگ فیسیں ادا کرنا آسان نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے کئی

حقدار طلبہ اپنے نمبروں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
پرچوں کی ناقص چیکنگ کرنے والے ممتحنین (Examiners) کے خلاف سخت انتظامی اور ڈسپلنری کارروائی کے بغیر یہ سلسلہ نہیں رک سکتا۔طلبا وطالبات اور والدین نے وزیر اعلی صوبائی وزیر تعلیم اور چیف سیکرٹری سے بورڈ حاکم کی نااہلی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

خیبر پختونخوا، چیف لائبریرین پر دوہری ملازمت اور تاریخِ پیدائش میں غیر قانونی تبدیلی کے الزامات ثابت

پشاور (سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا کے محکمہ آرکائیوز اینڈ لائبریریز کے چیف لائبریرین ڈاکٹر محمد…

11 گھنٹے ago

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلےسائیکلنگ بچوں کی جسمانی صحت،…

15 گھنٹے ago

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت کی طالبات نے ریڈیو پاکستان تربت…

15 گھنٹے ago

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز نے اپنے سکول…

16 گھنٹے ago

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا نے محکمہ تعلیم اور صحت میں…

16 گھنٹے ago

ڈیرہ اسماعیل خان, تعلیمی اداروں میں عملے کی عارضی ایڈجسٹمنٹ منسوخ

ڈیرہ اسماعیل خان (نمایندہ اردہ تعلیم ڈاٹ کام) تعلیمی اداروں میں تدریسی و غیر تدریسی…

16 گھنٹے ago