Categories: بریکنگ نیوز

جامعات میں 40 فیصد فیکلٹی اور انتظامی عہدے خالی ہونے کا انکشاف، ایچ ای سی کی تشویش

​15 اگست تک تمام خالی اسامیوں پر میرٹ اور شفاف بھرتیاں مکمل کی جائیں، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سخت ہدایت
​انتظامی اور تدریسی عہدوں پر تقرریوں میں غیر معمولی تاخیر تعلیمی سرگرمیوں، امتحانی نظام اور مالیاتی امور میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہے: اعلامیہ

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اسٹیچوٹری، انتظامی اور تدریسی عہدوں پر تقرریوں میں غیر معمولی تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ 15 اگست 2026 تک تمام خالی اسامیوں پر میرٹ اور شفافیت کے اصولوں کے تحت بھرتیوں کا عمل مکمل کریں۔
​ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق حالیہ سروے میں یہ تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے کہ ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تقریباً 40 فیصد فیکلٹی اور انتظامی عہدے خالی پڑے ہیں۔ ان خالی اسامیوں کے باعث نہ صرف تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں بلکہ تحقیقی منصوبوں، طلبہ کی رہنمائی، تعلیمی منصوبہ بندی، امتحانی نظام اور مالیاتی امور کی نگرانی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔


​ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ پرو وائس چانسلرز، ڈینز، رجسٹرار، ٹریژرار، کنٹرولر آف ایگزامینیشنز سمیت پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز، اسسٹنٹ پروفیسرز اور لیکچرار کے تمام خالی

عہدوں پر جلد از جلد تقرریاں کی جائیں۔ کمیشن نے اس امر پر زور دیا ہے کہ بھرتیوں کا پورا عمل شفاف، منصفانہ اور مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہونا چاہیے۔
​اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام وائس چانسلرز، ریکٹرز اور ادارہ جاتی سربراہان اس بات کو یقینی بنائیں کہ 15 اگست 2026 تک تمام خالی اسامیوں پر تقرریوں کا عمل مکمل ہو جائے۔ ساتھ ہی زیر التوا الائونسز اور قانونی معاملات کو بھی جلد نمٹایا جائے تاکہ انتظامی رکاوٹوں اور ممکنہ قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔


​ہائر ایجوکیشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جہاں کسی عہدے کی منظوری موجود نہیں وہاں متعلقہ جامعات اپنے قواعد و ضوابط اور مالی استعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے عہدوں کی تخلیق کے لیے ضروری اقدامات کریں۔ کمیشن کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں انسانی وسائل کی کمی کا براہ راست اثر تدریس، تحقیق اور ادارہ جاتی کارکردگی پر پڑتا ہے، جس کے تدارک کے لیے فوری

اقدامات ناگزیر ہیں۔
​کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ انتظامی سستی، اسٹیچوٹری باڈیز کے اجلاسوں میں غیر ضروری تاخیر یا اسامیوں کی عدم دستیابی کو کسی اہل امیدوار یا فیکلٹی ممبر کی تقرری میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمیشن نے عندیہ دیا ہے کہ ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے والے اداروں کے خلاف مناسب انتظامی اور ریگولیٹری کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
​دریں اثنا کمیشن نے صوبائی حکومتوں کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹس سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ جامعات اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے عام سرکاری تقرری پابندیوں سے استثنا فراہم کریں، تاکہ تدریسی اور انتظامی امور متاثر نہ ہوں۔

urdutaleem@gmail.com

Recent Posts

کےپی کے،ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام بند،گاڑیاں،ڈرون،لیپ ٹاپ ،کیمروں سمیت لاکھوں کا سامان غائب،2درجن ملازمین فارغ

ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام ختم، قیمتی سرکاری سامان غائب؛ 23 ملازمین فارغ دو گاڑیاں، ڈرون، ڈی…

20 hours ago

پنجاب یونیورسٹی، پہلے انڈرگریجویٹ انٹری ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان

پہلے ٹیسٹ میں 31 ہزار سے زائد طلبہ شریک ہوئے؛ داخلوں کے لیے دوسرا انٹری…

1 day ago

صوبائی وزیرِ ہائر ایجوکیشن کا جامعہ پشاور کا دورہ، تعاون کی یقین دہانی

تیس جون تک واجب الادا تمام پنشن اور کمیوٹیشن کی رقوم آئندہ مالی سال میں…

2 days ago

وفاقی اردو یونیورسٹی، مذاکرات پھر ناکام، طلبہ و اساتذہ کا احتجاج، وائس چانسلر کے حق میں بھی “یومِ استحکام ریلی”

وفاقی اردو یونیورسٹی کا بحران سنگین ترین: مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی ناکام، ایک طرف…

2 days ago

ایچ ای سی کا ایکشن، خراب نتائج پر ملک کی 44 جامعات میں کمپیوٹر سائنس اور کمپیوٹنگ داخلوں پر عارضی پابندی عائد

نیشنل اسکل کمپی ٹینسی ٹیسٹ میں طلبہ کی بڑی اکثریت فیل؛ سندھ کی 10 یونیورسٹیاں…

2 days ago