پشاور (بیوروچیف )وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت چیف منسٹر ماڈل اسکولز کے قیام سے متعلق ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کے مجوزہ خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ نے چیف منسٹر ماڈل اسکولز کے فوری اور قانونی قیام کے لیے جامع فریم ورک تیار کرنے کا عمل ہنگامی بنیادوں پر شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ چیف منسٹر ماڈل اسکولز کا قیام ہماری حکومت کے تعلیمی اصلاحاتی ایجنڈے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ معیاری تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا بنیادی حق ہے، اور ان اسکولوں میں جدید تدریسی نظام متعارف کرایا جائے گا۔ ان ماڈل اسکولوں میں نہ صرف اعلیٰ تربیت یافتہ اساتذہ تعینات کیے جائیں گے بلکہ طلبہ کو عالمی معیار کی جدید تعلیمی سہولیات بھی میسر ہوں گی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ تعلیمی نیٹ ورک کو وسیع کرتے ہوئے اگلے مالی سال کے دوران صوبے کے تمام اضلاع کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تح
ماڈل اسکولوں کو احسن طریقے سے چلانے کے لیے انتظامی اور قانونی قواعد و ضوابط پر بھی غور کیا گیا۔ اجلاس میں مطلع کیا گیا کہ چیف منسٹر ماڈل اسکولز کے لیے ایک علیحدہ قانون اور قواعد و ضوابط کا ڈھانچہ مرتب کیا جائے گا، جبکہ ان اسکولوں کے روزمرہ اور انتظامی امور کو خود مختار اور شفاف طریقے سے چلانے کے لیے ایک سینٹرلائزڈ بورڈ آف گورنرز (BoG) قائم کیا جائے گا۔
وی سی گومل یونیورسٹی کو 3 ماہ کی جبری رخصت پر بھیج دیا گیا؛ یونیورسٹی…
ڈیجیٹل لٹریسی پروگرام ختم، قیمتی سرکاری سامان غائب؛ 23 ملازمین فارغ دو گاڑیاں، ڈرون، ڈی…
پہلے ٹیسٹ میں 31 ہزار سے زائد طلبہ شریک ہوئے؛ داخلوں کے لیے دوسرا انٹری…
تیس جون تک واجب الادا تمام پنشن اور کمیوٹیشن کی رقوم آئندہ مالی سال میں…
وفاقی اردو یونیورسٹی کا بحران سنگین ترین: مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی ناکام، ایک طرف…
نیشنل اسکل کمپی ٹینسی ٹیسٹ میں طلبہ کی بڑی اکثریت فیل؛ سندھ کی 10 یونیورسٹیاں…