کراچی (سٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی میں ہاؤس رینٹ الاؤنس کی بحالی کے دیرینہ مطالبے نے اساتذہ اور انتظامیہ کے درمیان شدید کشیدگی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ انجمن اساتذہ کی جانب سے کلاسز اور امتحانی عمل کے مکمل بائیکاٹ کے اعلان کے باوجود انتظامیہ نے کل تمام پرچے معمول کے مطابق لینے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے یونیورسٹی میں تعلیمی بحران سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اساتذہ کا موقف اور احتجاجی لائحہ عمل
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی جانب سے 2022 میں ہاؤس رینٹ سیلنگ ختم کیے جانے کے فیصلے نے اساتذہ کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اساتذہ کا کہنا ہے کہ:
- ہاؤس رینٹ الاؤنس کی بحالی ان کا بنیادی آئینی اور قانونی حق ہے۔
- جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، تمام تدریسی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔
- سمسٹر امتحانات کا بھی مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا اور کوئی استاد امتحانی ڈیوٹی سرانجام نہیں دے گا۔
انتظامیہ کا دوٹوک فیصلہ
دوسری جانب جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ طلبہ کا تعلیمی مستقبل داؤ پر نہیں لگایا جائے گا اور سمسٹر امتحانات ہر صورت شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ انتظامیہ نے مالی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
- ہاؤس رینٹ الاؤنس کی بحالی سے جامعہ پر سالانہ 50 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا جو موجودہ مالی حالات میں برداشت کرنا ممکن نہیں۔
- کل ہونے والے تمام امتحانی پرچے اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے اور اس حوالے سے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
پالیسی تبدیلی کی تصدیق
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک خط کی کاپی بھی سامنے آئی ہے جس میں تصدیق کی گئی ہے کہ 2022 میں پالیسی میں تبدیلی لائی گئی تھی۔ اساتذہ کا احتجاج شدت اختیار کر رہا ہے جبکہ انتظامیہ اپنے فیصلے پر قائم ہے، جس کے باعث جامعہ کراچی میں تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہونے کا امکان ہے۔ طلبہ اور والدین اس غیر یقینی صورتحال کے باعث شدید تشویش کا شکار ہیں۔

