پشاور ( سپیشل رپورٹر)خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے دینی مدارس کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنے اور طلبہ میں تحقیق و مطالعے کے فروغ کے لیے لائبریریوں کے قیام کے ایک اہم منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ منصوبے کے تحت صوبے کے 210 رجسٹرڈ مدارس کو نصابی کتب اور لائبریری فرنیچر کی فراہمی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
محکمہ اوقاف کے زیر اہتمام منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران صوبے کے 140 بندوبستی اور 70 ضم شدہ (سابقہ فاٹا) اضلاع کے مدارس میں تعلیمی مواد اور فرنیچر تقسیم کیا گیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر اوقاف محمد عدنان قادری، سیکرٹری اوقاف عطاء الرحمن اور سربراہ متحدہ علماء بورڈ مولانا احسان الحق نے خصوصاً شرکت کی۔
تقسیم کردہ تعلیمی مواد اور فرنیچر کی تفصیلات
-
11 ہزار 760 نصابی کتب: تمام 210 مدارس کو مختلف تعلیمی درجات (درجہ اولیٰ، ثانیہ، ثالثہ، رابعہ، خامسہ، سادسہ، موقوف علیہ اور دورہ حدیث) کے لیے کتب کے 7، 7 مکمل سیٹس فراہم کیے گئے ہیں۔
-
2 ہزار 940 فرنیچر آئٹمز: تحقیق اور مطالعے کے بہترین ماحول کے لیے ہر مدرسے کو 2 بک شیلف، 2 لائبریری ٹیبلز اور 10 کرسیاں دی گئی ہیں، جس میں مجموعی طور پر 420 بک شیلف، 420 لائبریری ٹیبلز اور 2 ہزار 100 کرسیاں شامل ہیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر محمد عدنان قادری نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد مدارس کے طلبہ کو نصابی کتب تک آسان رسائی اور جدید تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دینی مدارس میں معیاری لائبریریوں کے قیام سے طلبہ کی علمی، فکری اور تحقیقی صلاحیتوں کو نکھارنے میں بڑی مدد ملے گی

