Become a member

Get the best offers and updates relating to Liberty Case News.

― Advertisement ―

spot_img
Homeتازہ ترینداؤد یونیورسٹی, مالی سال 27-2026ء کے بجٹ کی منظوری

داؤد یونیورسٹی, مالی سال 27-2026ء کے بجٹ کی منظوری

وزیر جامعات اسماعیل راہو کی صدارت میں داؤد یونیورسٹی کی سینیٹ کا 11واں اجلاس؛ مالی سال 27-2026ء کے بجٹ کی منظوری

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی سینیٹ کا 11 واں اہم اجلاس گزشتہ روز جامعہ کے سینیٹ ہال میں منعقد ہوا، جس کی صدارت پرو چانسلر اور وزیر جامعات و بورڈز محمد اسماعیل راہو نے کی۔ یہ اجلاس موجودہ وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر ثمرین حسین کے ٹینور (مدتِ ملازمت) کا آخری سینیٹ اجلاس تھا۔

اجلاس کے دوران پرو چانسلر اسماعیل راہو نے وائس چانسلر ڈاکٹر ثمرین حسین کی قیادت اور ان کے دورِ حکومت میں جامعہ کے بہترین مالی انتظامات کی مینیجمنٹ کو خصوصی طور پر سراہا۔

بجٹ کے اہم خدوخال اور منظوریاں

سینیٹ اجلاس میں تفصیلی غور و خوض کے بعد درج ذیل اہم فیصلے اور منظوریاں دی گئیں

  • مالی سال 27-2026ء کا بجٹ: اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ تخمینوں کی متفقہ منظوری دی گئی۔ یہ بجٹ موجودہ سال کی سرکاری گرانٹس کی تقسیم کو برقرار رکھتے ہوئے تجویز کیا گیا ہے۔
  • تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ: نئے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اور پنشن میں 10 فیصد اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
  • جامعہ کی اپنی آمدنی: یونیورسٹی نے اپنے ذاتی وسائل سے 903 ملین روپے آمدنی کا تخمینہ لگایا ہے۔ تنخواہوں کے علاوہ دیگر بڑے اخراجات کو بھی داؤد یونیورسٹی نے اپنے ذاتی وسائل سے پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
  • اسکالرشپس اور ریسرچ فنڈز: انڈاؤمنٹ فنڈ کی وصولیوں سے طلبہ کے اسکالرشپ پروگرام کے لیے 88 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جبکہ پنشن فنڈ کی شراکت، کمیوٹیشن ادائیگیوں، تحقیق (Research) اور لیبارٹریز کو جدید و مضبوط بنانے کے لیے 210 ملین روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے۔
  • انڈاؤمنٹ فنڈ میں اضافہ: فنڈ میں 90 ملین روپے کی شراکت کے بعد متوقع اضافی رقم 200 ملین روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

اجلاس کے اختتام پر بیرونی آڈیٹر کی تقرری، پنشن فنڈ سے متعلق ایکروئل رپورٹ اور جامعہ کی سالانہ رپورٹ برائے 26-2025ء بھی پیش کی گئی، جسے ایوان نے بحث اور جائزے کے بعد منظور کر لیا۔