spot_img

ذات صلة

جمع

جی سی یو ، منتخب ڈگری پروگرامز کی فیس میں 60 فیصد تک کمی

جی سی یو کا تاریخی فیصلہ: منتخب ڈگری پروگرامز...

یونیورسٹیز اور کالجز میں دوروزہ تعطیل، 4 دن آن لائن کلاسز کا حکم

پٹرولیم بحران کا اثر: خیبر پختونخوا میں یونیورسٹیز اور...

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا افتتاح

ڈیویژنل پبلک کالج خضدار میں جدید واک ٹریک کا...

افغانستان میں پھنسے مزید 110 پاکستانی طلباء وطن واپس پہنچ گئے

جمرود (نمائندہ خصوصی) افغانستان میں گزشتہ 10 ماہ سے پھنسے...

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن (فپواسا) نے وفاقی بجٹ مسترد کر دیا، اعلیٰ تعلیمی شعبے کے لیے مایوس کن قرار

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فپواسا) پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کے اعلیٰ تعلیمی شعبے اور سرکاری جامعات کے لیے انتہائی مایوس کن اور نقصان دہ قرار دے دیا ہے۔

فپواسا پاکستان کے مرکزی عہدیداروں نے ایک مشترکہ بیان میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک بھر کی سرکاری جامعات پہلے ہی تاریخ کے شدید ترین مالی بحران سے گزر رہی ہیں، مگر اس کے باوجود وفاقی حکومت نے نئے بجٹ میں جامعات کے لیے کوئی مناسب ریکرنگ گرانٹ مختص نہیں کی، جس سے تعلیمی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مالی معاونت نہ ہونے کے باعث ملک کی متعدد جامعات اپنے روزمرہ کے بنیادی اخراجات پورے کرنے سے بالکل قاصر ہو چکی ہیں، جبکہ کئی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو اپنے اساتذہ اور ملازمین کی ماہانہ تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی ادائیگیوں میں بھی شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے۔

فپواسا کا اصولی مؤقف، فپواسا کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ جامعات کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو متوجہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ سائنس و ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت اور معاشی استحکام کے میدان میں ملک کو آگے لے جانے کا خواب اس وقت تک شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا، جب تک حکومت اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی شعبوں میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کو اپنی اولین ترجیح نہیں بناتی۔ فاپواسا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجٹ میں ہائیر ایجوکیشن کے فنڈز پر نظرثانی کی جائے تاکہ جامعات کو ممکنہ بندش سے بچایا جا سکے۔