اہم ترین

خانیوال،پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں سائیکلنگ مقابلے

خانیوال(نمائندہ خصوصی ) پبلک سکول اینڈ یونیورسٹی کالج میں...

گرلز اسکول تربت کی طالبات کا ریڈیو پاکستان کا دورہ

تربت (نمائندہ حصوصی) گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی سکول تربت...

بیوٹمز سکول آف لاء میں موٹ کورٹ کا آغاز، قانونی تعلیم کا معیار بہتر بنانا ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ

کوئٹہ (نمائندہ حصوصی) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ...

کمشنر مالاکنڈکا محکمہ تعلیم میں گھوسٹ ملازمین اور غیر حاضر عملے کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

مالاکنڈ (نمائندہ حصوصی) کمشنر مالاکنڈ ڈویژن اقبال حسین باچا...

ڈیرہ اسماعیل خان, تعلیمی اداروں میں عملے کی عارضی ایڈجسٹمنٹ منسوخ

ڈیرہ اسماعیل خان (نمایندہ اردہ تعلیم ڈاٹ کام) تعلیمی...

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈائریکٹوریٹ آف سٹوڈنٹس افیئرز کے زیرِ اہتمام سیمینار

 

فیصل آباد (ایجو کیشن رپورٹر) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے طلبہ پر زور دیا ہے کہ وہ علم، تنقیدی سوچ اور عملی مہارتوں کو فروغ دیتے ہوئے اپنے اپنے شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی کو یقینی بنائیں۔ کیونکہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا ایسے نوجوان گریجویٹس کا تقاضا کرتی ہے جو چیلنجز کو مواقع میں بدلنے اور معاشرے کی بہتری میں بامعنی کردار ادا کرنے کی صلاحیت کے حامل ہوں۔

ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز اور آف چیف ہال وارڈن کے زیرِ اہتمام سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم محض ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ پیچیدہ مسائل کو سمجھنے، جدید اور مؤثر حل تلاش کرنے اور ملک کے مستقبل کی ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔

پولینڈ کے سکول میں چاقو زنی کا ایک اور واقعہ, ایک شخص ہلاک، دو زخمی

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم، تحقیق اور کردار سازی پر بھرپور توجہ دیں تاکہ زراعت، موسمیاتی تبدیلی، غذائی تحفظ، پانی کی قلت، ٹیکنالوجی میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں جیسے چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل نوجوان نسل، خصوصاً زراعت اور متعلقہ شعبوں سے وابستہ طلبہ کی صلاحیتوں سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو روایتی اندازِ فکر سے آگے بڑھنے اور جدید علم، ڈیجیٹل مہارتوں اور کاروباری صلاحیتوں سے خود کو آراستہ کرنے کی تلقین کی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ ایسے باصلاحیت پیشہ ور، محقق، کاروباری افراد اور قائدین بن کر ابھریں گے جو پاکستان اور عالمی برادری کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔